حدیث نمبر: 1651
وَعَنْ أَبِي عُثْمَانَ قَالَ : كُنْتُ مَعَ سَلْمَانَ تَحْتَ شَجَرَةٍ ، فَأَخَذَ غُصْنًا مِنْهَا يَابِسًا فَهَزَّهُ حَتَّى تَحَاتَّ وَرَقُهُ ، ثُمَّ قَالَ : يَا أَبَا عُثْمَانَ ، أَلَا تَسْأَلُنِي لِمَ أَفْعَلُ هَذَا ؟ قُلْتُ : وَلِمَ تَفْعَلُهُ ؟ قَالَ : هَكَذَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا مَعَهُ تَحْتَ شَجَرَةٍ ، وَأَخَذَ مِنْهَا غُصْنًا يَابِسًا فَهَزَّهُ حَتَّى تَحَاتَّ وَرَقُهُ ، فَقَالَ : " يَا سَلْمَانُ ، أَلَا تَسْأَلُنِي لِمَ أَفْعَلُ هَذَا ؟ " قُلْتُ " وَلِمَ تَفْعَلُهُ ؟ قَالَ : " إِنَّ الْمُسْلِمَ إِذَا تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ، ثُمَّ صَلَّى الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ - تَحَاتَّتْ خَطَايَاهُ كَمَا يَتَحَاتُّ هَذَا الْوَرَقُ " ، وَقَالَ : ( أَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ ) . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ . وَفِي إِسْنَادِ أَحْمَدَ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، وَهُوَ مُخْتَلَفٌ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

ابوعثمان بیان کرتے ہیں : میں ، سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ، ایک درخت کے نیچے موجود تھا ، انہوں نے ایک خشک شاخ کو پکڑا ، اُسے ہلایا ، تو اس کے پتے گر گئے ، پھر انہوں نے فرمایا : اے ابوعثمان ! کیا تم مجھ سے دریافت نہیں کرو گے ؟ کہ میں نے ایسا کیوں کیا ہے ؟ انہوں نے بتایا : کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایسا ہی کیا تھا ، میں اُس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک درخت کے نیچے موجود تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خشک شاخ پکڑی ، اُسے ہلایا ، یہاں تک کہ اُس کے پتے گر گئے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے سلمان ! کیا تم مجھ سے یہ نہیں پوچھیں گے کہ میں نے ایسا کیوں کیا ہے ؟ میں نے عرض کی : آپ نے ایسا کیوں کیا ہے ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب کوئی مسلمان وضو کرتے ہوئے ، اچھی طرح وضو کرے اور پھر پانچ نمازیں ادا کرے ، تو اُس کے گناہ یوں گر جاتے ہیں جس طرح یہ پتے گر گئے ہیں “ ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی : ” دن کے دونوں حصوں میں ، نماز قائم کرو ، اور رات کے کچھ حصے میں بھی ، بے شک نیکیاں ، برائیوں کو ختم کر دیتی ہیں ، اور یہ چیز نصیحت حاصل کرنے والوں کے لئے نصیحت ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے ، امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، امام أحمد کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے ، اس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1651
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «مسند احمد بن حنبل مسند الانصار ، حديث سلمان الفارسي حديث 23102 ، المعجم الكبير للطبراني من اسمه سهل ، ابو عثمان النهدى على بن زيد بن جدعان ، حديث 6025 ، مسند الطيالسي سلمان رحمه الله ، 680»