مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ فَضْلِ الصَّلَاةِ وَحَقْنِهَا لِلدَّمِ . باب: نماز کی فضیلت اور اس کا جان کو محفوظ کرنا
وَعَنِ الْحَارِثِ مَوْلَى عُثْمَانَ قَالَ : جَلَسَ عُثْمَانُ يَوْمًا وَجَلَسْنَا مَعَهُ ، فَجَاءَ الْمُؤَذِّنُ فَدَعَا بِمَاءٍ فِي إِنَاءٍ - أَظُنُّهُ يَكُونُ فِيهِ مُدٌّ - فَتَوَضَّأَ ثُمَّ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتَوَضَّأُ وُضُوئِي هَذَا ، ثُمَّ قَالَ : " مَنْ تَوَضَّأَ وُضُوئِي هَذَا ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى صَلَاةَ الظُّهْرِ - غُفِرَ لَهُ مَا كَانَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ الصُّبْحِ ، ثُمَّ صَلَّى الْعَصْرَ غُفِرَ لَهُ مَا كَانَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ صَلَاةِ الظُّهْرِ ، ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ غُفِرَ لَهُ مَا كَانَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْعَصْرِ ، ثُمَّ صَلَّى الْعَشَاءَ غُفِرَ لَهُ مَا بَيَّنَهَا وَبَيْنَ الْمَغْرِبِ ، ثُمَّ لَعَلَّهُ يَبِيتُ يَتَمَرَّغُ لَيْلَتَهُ ، ثُمَّ إِنْ قَامَ فَتَوَضَّأَ وَصَلَّى الصُّبْحَ - غُفِرَ لَهُ مَا بَيَّنَهَا وَبَيْنَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ ، وَهُنَّ الْحَسَنَاتُ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ " . قَالُوا : هَذِهِ الْحَسَنَاتُ ، فَمَا الْبَاقِيَاتُ يَا عُثْمَانُ ؟ قَالَ : هُنَّ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ الْحَارِثِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤حارث ، جو سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے غلام ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : ایک دن سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ تشریف فرما تھے ، ہم بھی ان کے ہمراہ بیٹھے ہوئے تھے ، اس دوران مؤذن آیا ، تو سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے پانی کا برتن منگوایا ، راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے : اس برتن میں ایک ” مد “ پانی تھا ، انہوں نے وضو کیا ، پھر انہوں نے یہ بات بیان کی : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے اس وضو کی طرح ، وضو کرتے ہوئے دیکھا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص میرے اس وضو کی طرح وضو کرے ، اور پھر کھڑا ہو کر ، ظہر کی نماز ادا کرے ، تو اس شخص کے صبح کی نماز سے لے کے ظہر تک کے ، درمیان کے گناہوں کی مغفرت ہو جاتی ہے ، پھر جب وہ عصر کی نماز ادا کر لے ، تو اس شخص کے ظہر سے لے کر عصر تک کے درمیانی گناہوں کی مغفرت ہو جاتی ہے ، پھر جب وہ مغرب کی نماز ادا کر لے ، تو اس کے عصر سے لے کر مغرب تک کے درمیانی گناہوں کی مغفرت ہو جاتی ہے ، پھر جب وہ عشاء کی نماز ادا کر لے ، تو اس کے مغرب سے لے کر عشاء تک کے درمیانی گناہوں کی مغفرت ہو جاتی ہے ، اور پھر وہ ایسی حالت میں رات بسر کرتا ہے کہ لوٹ پوٹ ہوتا ہے ، پھر اگر وہ کھڑا ہو کر وضو کر کے صبح کی نماز ادا کرتا ہے ، تو اس شخص کے عشاء کی نماز سے لے کر صبح تک کے درمیانی گناہوں کی مغفرت ہو جاتی ہے ، یہ وہ ” حسنات “ ( یعنی نیکیاں ) ہیں ، جو گناہوں کو ختم کر دیتی ہیں“ ۔ لوگوں نے عرض کی : اے سیدنا عثمان ! یہ ” حسنات “ ہیں ، تو ” باقیات “ سے کیا مراد ہو گی ؟ تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : وہ یہ کلمات ہیں : ” اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اللہ تعالیٰ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے ، ہر طرح کی حمد ، اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے ، اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے ، اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس کا کچھ حصہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف حارث بن عبداللہ کا معاملہ مختلف ہے ، جو سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا غلام ہے ، ویسے وہ ” ثقہ “ ہے ۔