مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْأَنْصَارِ . باب: انصار کی فضیلت کے بارے میں ، جو منقول ہے
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيِّ - وَهُوَ أَحَدُ الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ تِيبَ عَلَيْهِمْ - يَعْنِي : أَبَاهُ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجَ يَوْمًا عَاصِبًا رَأْسَهُ فَقَالَ فِي خُطْبَتِهِ : " أَمَّا بَعْدُ ، يَا مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِينَ ، فَإِنَّكُمْ قَدْ أَصْبَحْتُمْ تَزِيدُونَ ، وَأَصْبَحَتِ الْأَنْصَارُ لَا تَزِيدُ عَلَى هَيْئَتِهَا الَّتِي هِيَ عَلَيْهَا الْيَوْمَ ، وَإِنَّ الْأَنْصَارَ عَيْبَتِي الَّتِي آوَيْتُ إِلَيْهَا ، فَأَكْرِمُوا كَرِيمَهُمْ ، وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤عبداللہ بن کعب بن مالک انصاری ( یہ سیدنا کعب بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ ) ان تین افراد میں سے ایک ہیں ، جن کی توبہ قبول ہوئی تھی ، عبداللہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی نے انہیں یہ بات بتائی ہے : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر پر پٹی باندھی ہوئی تھی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبے کے درمیان ارشاد فرمایا : ” امابعد ! اے مہاجرین کے گروہ ! تم لوگ زیادہ ہوتے جاؤ گے اور انصار زیادہ نہیں ہوں گے ، وہ اسی حالت پر رہیں گے جس پر اب ہیں اور انصار میرے قریبی ہیں ، جن کی پناہ میں نے لی ہے ، تو تم ان کے معزز فرد کی عزت افزائی کرنا ان کے برے فرد سے درگزر کرنا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔