حدیث نمبر: 16499
وَعَنْ قُدَامَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ قَالَ : رَأَيْتُ الْحَجَّاجَ يَضْرِبُ عَبَّاسَ بْنَ سَهْلٍ فِي أَمْرِ ابْنِ الزُّبَيْرِ ، فَأَتَاهُ سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ ، وَهُوَ شَيْخٌ كَبِيرٌ لَهُ ضَفْرَانِ ، وَعَلَيْهِ ثَوْبَانِ : إِزَارٌ وَرِدَاءٌ ، فَوَقَفَ بَيْنَ السِّمَاطَيْنِ فَقَالَ : أَبَا حَجَّاجٍ ، أَلَا تَحْفَظُ فِينَا وَصِيَّةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ فَقَالَ : وَمَا أَوْصَى بِهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِيكُمْ ؟ قَالَ : أَوْصَى أَنْ يُحْسَنَ إِلَى مُحْسِنِ الْأَنْصَارِ ، وَيُعْفَى عَنْ مُسِيئِهِمْ . قَالَ : فَأَرْسَلَهُ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِأَسَانِيدَ ، فِي أَحَدِهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُصْعَبٍ ، وَفِي الْآخَرِ عَبْدُ الْمُهَيْمِنِ بْنُ عَبَّاسٍ ، وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

قدامہ بن ابراہیم بیان کرتے ہیں : میں نے حجاج کو دیکھا کہ وہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی وجہ سے عباس بن سہل کی پٹائی کر رہا تھا ، اسی دوران سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ حجاج کے پاس آئے اور وہ ایک عمر رسیدہ شخص تھے ، ان کے دونوں طرف بال تھے ، ان کے جسم پر دو لباس تھے ، ایک تہبند تھا اور ایک چادر تھی ، وہ پاس آ کر کھڑے ہوئے اور بولے : اے حجاج ! کیا تم ہمارے بارے میں ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت کا خیال نہیں رکھو گے ؟ حجاج نے دریافت کیا : آپ لوگوں کے بارے میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا وصیت کی ہے ؟ تو انہوں نے بتایا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ وصیت کی ہے کہ انصار کے اچھے فرد کے ساتھ اچھائی کی جائے اور ان کے برے فرد سے درگزر کیا جائے گا ، راوی کہتے ہیں : تو حجاج نے عباس کو چھوڑ دیا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک سند میں ایک راوی عبداللہ بن مصعب ہے اور دوسری میں ایک راوی عبدالمہیمن بن عباس ہے اور یہ دونوں ضعیف ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16499
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (7532) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5719 و 6028)»