حدیث نمبر: 16497
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ - وَكَانَ أَبُوهُ أَحَدَ الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ تِيبَ عَلَيْهِمْ - عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَامَ خَطِيبًا ، فَحَمِدَ اللَّهَ ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، وَاسْتَغْفَرَ لِلشُّهَدَاءِ الَّذِينَ قُتِلُوا بِأُحُدٍ ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّكُمْ يَا مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِينَ تَزِيدُونَ ، وَإِنَّ الْأَنْصَارَ لَا يَزِيدُونَ ، وَإِنَّ الْأَنْصَارَ عَيْبَتِي الَّتِي آوَيْتُ إِلَيْهَا ، أَكْرِمُوا كَرِيمَهُمْ ، وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ ; فَإِنَّهُمْ قَدْ قَضَوُا الَّذِي عَلَيْهِمْ ، وَبَقِيَ الَّذِي لَهُمْ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

عبدالرحمن بن کعب بن مالک ، ان کے والد ان تین افراد میں سے ایک ہیں ، جن کی توبہ قبول ہوئی تھی ، وہ صاحب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک فرد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے ، آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی اور آپ نے غزوہ اُحد کے شہداء کے لئے دعائے مغفرت کی اور پھر یہ ارشاد فرمایا : ” اے مہاجرین کے گروہ ! تم لوگ زیادہ ہوتے جاؤ گے ، اور انصار زیادہ نہیں ہوں گے ، انصار میرے خاص ساتھی ہیں ، میں جن کی پناہ میں آیا ، تو تم ان کے معزز فرد کی عزت افزائی کرنا اور ان کے برے فرد سے درگزر کرنا کیونکہ انہوں نے اس چیز کو ادا کر دیا ہے جو اُن کے ذمہ بنتا تھا اور اب وہ چیز باقی رہ گئی ہے ، جو ان کا حق بنتا ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16497
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (224/5)»