حدیث نمبر: 16492
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : أَمَرَ أَبِي بِخَزِيرَةٍ صُنِعَتْ ، ثُمَّ أَمَرَنِي فَأَتَيْتُ بِهَا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ فِي مَنْزِلِهِ ، قَالَ : فَقَالَ لِي : " مَاذَا مَعَكَ يَا جَابِرُ ؟ أَلَحْمٌ هَذَا ؟ " . قُلْتُ : لَا . فَأَتَيْتُ أَبِي فَقَالَ : هَلْ رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قُلْتُ : نَعَمْ . قَالَ : فَهَلْ سَمِعْتَهُ يَقُولُ شَيْئًا ؟ قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ . قَالَ لِي : " مَاذَا مَعَكَ يَا جَابِرُ ؟ أَلَحْمٌ هَذَا ؟ " . قَالَ : لَعَلَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَكُونَ اشْتَهَى اللَّحْمَ ، فَأَمَرَ بِشَاةٍ لَنَا دَاجِنٍ فَذُبِحَتْ ، ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَشُوِيَتْ ، ثُمَّ أَمَرَنِي فَأَتَيْتُ بِهَا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لِي : " مَاذَا مَعَكَ يَا جَابِرُ ؟ " . فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ : " جَزَى اللَّهُ الْأَنْصَارَ عَنَّا خَيْرًا ، وَلَا سِيَّمَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَرَامٍ ، وَسَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى بِإِسْنَادَيْنِ ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میرے والد نے ” خزیرہ “ تیار کرنے کا حکم دیا ، وہ تیار کیا گیا ، پھر میرے والد نے مجھے ہدایت کی تو میں وہ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، راوی کہتے ہیں : جب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ اپنے گھر میں تھے ، آپ نے مجھ سے دریافت کیا : اے جابر ! تمہارے پاس کیا ہے ؟ کیا یہ گوشت ہے ؟ میں نے عرض کی : جی نہیں ! پھر میں اپنے والد کے پاس آیا ، انہوں نے دریافت کیا : کیا تم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! انہوں نے دریافت کیا : کیا تم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : اے جابر ! تمہارے پاس کیا ہے ؟ کیا یہ گوشت ہے ؟ تو میرے والد نے کہا: شاید نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گوشت کھانے کی خواہش ہو رہی تھی ، تو انہوں نے ہماری ایک بکری کے بارے میں حکم دیا اسے ذبح کیا گیا پھر ان کے حکم کے تحت اسے پکایا گیا ، پھر انہوں نے مجھے حکم دیا میں اس کا گوشت لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : اے جابر ! تمہارے ساتھ کیا ہے ؟ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ انصار کو ہماری طرف سے جزائے خیر عطا کرے ، خاص طور پر عبداللہ بن عمرو بن حرام اور سعد بن عبادہ کو ( جزائے خیر عطا کرے ) ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ان دونوں میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ابراہیم بن حبیب بن شہید کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16492
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2707) اخرجه أبو يعلى فى المسند (2080 و 2079)»