حدیث نمبر: 16493
وَعَنْ أَبِي مُحَمَّدِ بْنِ بَشِيرِ بْنِ أَبَانِ بْنِ بَشِيرِ بْنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرِ بْنِ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ : كَتَبَ مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ إِلَى النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ يَخْطُبُ عَلَى ابْنِهِ عَبْدِ الْمَلِكِ أُمَّ أَبَانٍ بِنْتَ النُّعْمَانِ ، وَكَانَ فِي كِتَابِهِ إِلَيْهِ : بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، مِنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ إِلَى النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، سَلَامٌ عَلَيْكَ ، فَإِنِّي أَحْمَدُ اللَّهَ إِلَيْكَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ ، أَمَّا بَعْدُ : فَإِنَّ اللَّهَ ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ ، وَالْعَظَمَةِ وَالسُّلْطَانِ ، قَدْ خَصَّكُمْ - مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ - بِنَصْرِ دِينِهِ ، وَاعْتِزَازِ نَبِيِّهِ ، وَقَدْ جَعَلَكَ اللَّهُ مِنْهُمْ فِي الْبَيْتِ الْعَمِيمِ ، وَالْفَرْعِ الْقَدِيمِ ، وَقَدْ دَعَانِي ذَلِكَ إِلَى اخْتِيَارِي مُصَاهِرَتَكَ ، وَإِيثَارِكَ عَلَى الْأَكْفَاءِ مِنْ وَلَدِ أَبِي ، وَقَدْ رَأَيْتُ أَنْ تُزَوِّجَ ابْنِي عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ مَرْوَانَ ابْنَتَكَ أُمَّ أَبَانٍ بِنْتَ النُّعْمَانِ ، وَقَدْ جَعَلْتُ صَدَاقَهَا مَا نَطَقَ بِهِ لِسَانُكَ ، وَتَرَمْرَمَتْ بِهِ شَفَتَاكَ ، وَبَلَغَهُ مُنَاكَ ، وَحَكَمْتَ بِهِ فِي بَيْتِ الْمَالِ قِبَلَكَ . فَلَمَّا قَرَأَ النُّعْمَانُ كِتَابَهُ كَتَبَ إِلَيْهِ : بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، مِنَ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ إِلَى مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ ، بَدَأْتُ بِاسْمِي سُنَّةً مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ; وَذَلِكَ لِأَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِذَا كَتَبَ أَحَدُكُمْ إِلَى أَحَدٍ فَلْيَبْدَأْ بِنَفْسِهِ " . أَمَّا بَعْدُ : فَقَدْ وَصَلَ إِلَيَّ كِتَابُكَ ، وَقَدْ فَهِمْتُ مَا ذَكَرْتَ فِيهِ مِنْ مَحَبَّتِنَا ، فَإِمَّا أَنْ تَكُونَ صَادِقًا فَغُنْمٌ أَصَبْتَ ، وَبِحَظِّكَ أَخَذْتَ ; لِأَنَّا أُنَاسٌ جَعَلَ اللَّهُ تَعَالَى حُبَّنَا إِيمَانًا ، وَبُغْضَنَا نِفَاقًا . وَأَمَّا مَا أَطْنَبْتَ فِيهِ مِنْ ذِكْرِ شَرَفِنَا ، وَقَدِيمِ سَلَفِنَا ، فَفِي مَدْحِ اللَّهِ تَعَالَى لَنَا وَذِكْرِهِ إِيَّانَا فِي كِتَابِهِ الْمُنَزَّلِ ، وَقُرْآنِهِ الْمُفَصَّلِ عَلَى نَبِيِّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا أَغْنَانَا عَنْ مَدْحِ أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ . ¤ وَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ أَنَّكَ آثَرْتِنِي بِابْنِكَ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ عَلَى الْأَكْفَاءِ مِنْ وَلَدِ أَبِيكَ ، فَحَظِّي مِنْكَ مَرْدُودٌ عَلَيْهِمْ ، مَوْفُورٌ لَهُمْ ، غَيْرُ مُشَاحٍّ لَهُمْ فِيهِ ، وَلَا مُنَازِعٍ لَهُمْ عَلَيْهِ . ¤ وَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ بِأَنَّ صَدَاقَهَا مَا نَطَقَ بِهِ لِسَانِي ، وَتَرَمْرَمَتْ بِهِ شَفَتَايَ ، وَبَلَغَهُ مُنَايَ ، وَحَكَمْتُ بِهِ فِي بَيْتِ الْمَالِ قِبَلِي ، فَقَدْ أَصْبَحَ بِحَمْدِ اللَّهِ لَوْ أَنْصَفْتَ حَظِّي فِي بَيْتِ الْمَالِ أَوْفَرَ مِنْ حَظِّكَ ، وَسَهْمِي فِيهِ أَجْزَلَ مِنْ سَهْمِكَ ، فَأَنَا الَّذِي أَقُولُ : ¤ فَلَوْ أَنَّ نَفْسِي طَاوَعَتْنِي لَأَصْبَحْتُ لَهَا حَفْدٌ مِمَّا يُعَدُّ كَثِيرُ وَلَكِنَّهَا نَفْسٌ عَلَيَّ كَرِيمَةٌ عَيُوفٌ لِأَصْهَارِ اللِّثَامِ قُدُورُ لَنَا فِي بَنِي الْعَنْقَاءِ وَابْنَيْ مُحَرِّقٍ مُصَاهَرَةٌ ¤ يُسَمَّى بِهَا وَمُهُورُ وَفِي آلِ عِمْرَانَ وَعَمْرِو بْنِ عَامِرٍ عَقَائِلُ لَمْ يُدَنَّسْ لَهُنَّ حُجُورُ ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبَانُ بْنُ بَشِيرِ بْنِ النُّعْمَانِ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ ، إِلَّا أَنَّ ابْنَ حِبَّانَ قَالَ فِي أَبِي مُحَمَّدِ بْنِ بَشِيرِ بْنِ أَبَانٍ قَالَ فِيهِ : بَشِيرُ بْنُ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرِ بْنِ أَبَانٍ . فَزَادَ فِي نَسَبِهِ النُّعْمَانَ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین

ابومحمد بن بشیر بن ابان بن بشیر بن نعمان بن بشیر بن سعد انصاری ، اپنے والد کے حوالے سے ، اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : مروان بن حکم نے سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کو اپنے بیٹے عبدالملک کے لئے شادی کا پیغام دیا ، جو سیدنا نعمان رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی ام ابان کے لئے تھا ۔ مردان نے جو انہیں خط لکھا اس میں یہ تحریر تھا : ” اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے ، یہ مروان بن حکم کی طرف سے نعمان بن بشیر کے نام ہے ، تم پر سلام ہو ! میں تمہارے سامنے اس اللہ کی حمد بیان کرتا ہوں ، جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے امابعد ! بے شک اللہ تعالیٰ کی ذات جلال والی ہے ، اکرام والی ہے ، عظمت والی ہے ، غلبے والی ہے ، اے انصار کے گروہ ! اللہ تعالیٰ نے تمہیں یہ خصوصیت عطا کی ہے کہ تم نے اس کے دین کی مدد کی ، اس کے نبی کا ساتھ دیا ، تو اللہ تعالیٰ نے تمہیں ان میں سے عمومی گھر میں رکھا اور قدیم شاخ میں رکھا ، تو اس چیز نے مجھے اس بات کی طرف راغب کیا کہ میں تمہارے ساتھ رشتے داری قائم کروں ، اور تمہیں اپنے باپ کی اولاد کے ہم پلہ افراد پر ترجیح دوں ، تو میں یہ سمجھتا ہوں کہ تم میرے بیٹے عبدالملک بن مروان کے ساتھ اپنی بیٹی اُم ابان بنت نعمان کی شادی کروا دو ، اس کا مہر وہ ہو گا جو تمہاری زبان بیان کرے گی ، اور جو تمہارے ہونٹ ادا کریں گے ، اور جو تمہاری خواہش ہو گی ، میں نے اس سے پہلے ہی بیت المال ( کے نگران کو ) اس بارے میں حکم دے دیا ہے ۔ “
جب سیدنا نعمان رضی اللہ عنہ نے وہ خط پڑھا تو انہوں نے اُسے جوابی خط میں لکھا : ” اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے ، یہ نعمان بن بشیر کی طرف سے مروان بن حکم کے نام ہے ، میں نے اپنا نام پہلے اس لئے لکھا ہے کیونکہ یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے اور میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جب کوئی شخص کسی دوسرے کو خط لکھے تو پہلے اپنا ذکر کرے ۔ “
امابعد ! تمہارا مکتوب مجھ تک پہنچا ، جو تم نے ذکر کیا ہے ، اس کی مجھے سمجھ آ گئی کہ جو تم نے ہمارے ساتھ محبت کا ذکر کیا ہے ، تو یا تو تم اس دعوے میں سچے ہو گے ، تو یہ غنیمت ہے جو تمہیں حاصل ہو گئی ، اور ایک حصہ ہے جو تم نے لے لیا ، کیونکہ ہم ایسے لوگ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہم سے محبت کو ایمان قرار دیا ہے اور ہمارے ساتھ بغض کو نفاق قرار دیا ہے ، اور تم نے جو ہمارے شرف اور پرانے مرتبے کا ذکر کیا ہے تو اللہ تعالیٰ نے ہماری تعریف کی ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنی نازل کی ہوئی کتاب میں اس حوالے سے ہمارا ذکر کیا ہے ، جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر نازل کی ، تو اس کے بعد ہمیں لوگوں میں سے کسی کی تعریف کی ضرورت نہیں رہ جاتی ، جہاں تک تم نے یہ بات ذکر کی ہے کہ تم نے اپنے بیٹے عبدالملک بن مروان کے لئے اپنے باپ کی اولاد میں سے اپنے ہم پلہ لوگوں پر مجھے ترجیح دی ہے ، تو تمہاری طرف سے میرا حصہ ان پر لوٹ جائے گا اور انہیں پوری ادائیگی کی جائے گی ، ان کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہو گی ، ان کے ساتھ اس حوالے سے کوئی تنازع نہیں ہو گا ، جہاں تک تم نے یہ بات ذکر کی ہے کہ اس لڑکی کا مہر وہ ہو گا جو میری زبان بیان کرے گی اور جو میرے ہونٹ حرکت میں آئیں گے اور جو میری خواہش ہو گی اور اس بارے میں تم نے بیت المال کے حکام کو حکم بھی دے دیا ہے ، تو الحمدللہ صورت حال یہ ہے کہ اگر تم میرے حصے کے بارے میں انصاف سے کام لو ، تو بیت المال میں میرا حصہ تمہارے حصے سے زیادہ بنتا ہے ، اور اس بارے میں میرا حصہ تمہارے حصے سے زیادہ ہے ، تو میں یہ کہتا ہوں : ” اگر میرا نفس میری بات مان لے تو اس کے بہت سے خدمتگار ہو جائیں گے ، اور وہ اتنے ہوں گے جنہیں کثیر شمار کیا جائے ، لیکن میرا نفس میرے نزدیک معزز ہے اور اس کو کمینے اور گندے لوگوں کے ساتھ رشتہ مصاہرت قائم کرنا ناگوار گزرتا ہے ، عنفاء کے بیٹوں اور محرق کے دو بیٹوں کے ساتھ ہمارا رشتہ مصاہرت ہے ، جس سے بلندی بھی حاصل ہوئی اور مہر بھی ، عمران اور عمرو بن عامر کی آل میں ایسی رسیاں ہیں جن کے کنارے بھی میلے نہیں ہوتے ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابان بن بشیر بن نعمان ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، البتہ ابن حبان نے ابومحمد بن بشیر بن ابان کے بارے میں یہ کہا: ہے : بشیر بن نعمان بن بشیر بن ابان ہے ، تو انہوں نے اس کے نسب میں نعمان کا اضافہ کیا ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16493
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف