حدیث نمبر: 16491
وَعَنِ ابْنِ شَفِيعٍ - وَكَانَ طَبِيبًا - قَالَ : دَعَانِي أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ فَقَطَعْتُ لَهُ عِرْقَ النَّسَا ، فَحَدَّثَنِي بِحَدِيثَيْنِ قَالَ : أَتَانِي أَهْلُ بَيْتَيْنِ مِنْ قَوْمِي : أَهْلُ بَيْتٍ مِنْ [ بَنِي ] ظَفَرٍ ، وَأَهْلُ بَيْتٍ مِنْ بَنِي مُعَاوِيَةَ ، فَقَالُوا : كَلِّمْ لَنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُقَسِّمُ لَنَا ، أَوْ يُعْطِينَا ، أَوْ نَحْوَ [ مِنْ ] هَذَا ، فَكَلَّمْتُهُ فَقَالَ : " نَعَمْ أَقْسِمُ لِكُلِّ [ أَهْلِ ] بَيْتٍ مِنْهُمْ شَطْرًا ، فَإِنْ عَادَ اللَّهُ عَلَيْنَا عُدْنَا عَلَيْهِمْ " . قَالَ : قُلْتُ : جَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " وَأَنْتُمْ فَجَزَاكُمُ اللَّهُ خَيْرًا ; فَإِنَّكُمْ مَا عَلِمْتُكُمْ أَعِفَّةٌ صُبُرٌ " . " قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : إِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَ أَثَرَةً بَعْدِي " . فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ قَسَّمَ حُلَلًا بَيْنَ النَّاسِ فَبَعَثَ إِلَيَّ مِنْهَا بِحُلَّةٍ فَاسْتَصْغَرْتُهَا [ فَأَعْطَيْتُهَا ابْنَتِي ] ، فَبَيْنَا أَنَا أُصَلِّي إِذْ مَرَّ بِي شَابٌّ مِنْ قُرَيْشٍ ، عَلَيْهِ حُلَّةٌ مِنْ تِلْكَ الْحُلَلِ يَجُرُّهَا ، فَذَكَرْتُ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَ أَثَرَةً بَعْدِي " . فَقُلْتُ : صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ، فَانْطَلَقَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ فَأَخْبَرَهُ ، فَجَاءَ وَأَنَا أُصَلِّي فَقَالَ : صَلِّ أَبَا أُسَيْدٍ ، فَلَمَّا قَضَيْتُ صَلَاتِي قَالَ : كَيْفَ قُلْتَ ؟ فَأَخْبَرْتُهُ ، فَقَالَ : تِلْكَ حُلَّةٌ بَعَثْتُ بِهَا إِلَى فُلَانٍ ، وَهُوَ بَدْرِيٌّ أُحُدِيٌّ عَقَبِيٌّ ، فَأَتَاهُ هَذَا الْفَتَى فَابْتَاعَهَا مِنْهُ فَلَبِسَهَا ، فَظَنَنْتَ أَنْ ذَلِكَ يَكُونَ فِي زَمَانِي ؟ قَالَ : قُلْتُ : قَدْ وَاللَّهِ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، ظَنَنْتُ أَنَّ ذَلِكَ لَا يَكُونُ فِي زَمَانِكَ . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ وَغَيْرِهِ مِنْهُ : " إِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ ابْنَ إِسْحَاقَ مُدَلِّسٌ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

ابن شفیع ، جو ایک طبیب تھے ، وہ بیان کرتے ہیں : سیدنا اُسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے مجھے بلایا اور میں نے ان کی عرق النساء کاٹ دی ، انہوں نے مجھے دو حدیثیں بیان کیں ، انہوں نے فرمایا : میری قوم کے افراد میرے پاس آئے ، ایک گھرانے کا تعلق بنوظفر سے تھا اور ایک گھرانے کا تعلق بنو معاویہ سے تھا تو ان لوگوں نے کہا: آپ ہمارے لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بات چیت کریں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں بھی تقسیم میں کچھ دیں ، یا ہمیں کچھ اور عطا کریں ، یا اس کی مانند کوئی بات انہوں نے بیان کی ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں بات چیت کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! میں ان میں سے ہر گھرانے کو نصف حصہ دوں گا اور اگر اللہ تعالیٰ ہمیں مزید دے گا تو میں انہیں مزید دوں گا ۔
راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا کرے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بلکہ اللہ تعالیٰ تم لوگوں ( یعنی انصار ) کو جزائے خیر عطا کرئے ، کیونکہ تم لوگوں کے بارے میں میرا علم یہ ہے کہ تم لوگ مانگنے سے بچنے والے اور صبر کرنے والے لوگ ہو ۔
راوی بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” بے شک تم لوگ میرے بعد ترجیحی سلوک کا سامنا کرو گے ۔ “
راوی کہتے ہیں : جب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا اور انہوں نے کچھ حلے لوگوں کے درمیان تقسیم کئے تو ان میں سے ایک حلہ انہوں نے مجھے بھی بھیجا ، میں نے اسے چھوٹا سمجھا ، وہ میں نے اپنی بیٹی کو دے دیا ، ایک وقت میں ، میں نماز ادا کر رہا تھا اسی دوران قریش سے تعلق رکھنے والا ایک نوجوان میرے پاس سے گزرا ، اس نے ان حلوں میں سے ایک حلہ پہنا ہوا تھا اور وہ اتنا بڑا تھا کہ وہ اس کو گھسیٹ رہا تھا ، مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان یاد آ گیا : ” تم لوگ میرے بعد ترجیحی سلوک کا سامنا کرو گے ۔ “
میں نے کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا ہے ، وہ شخص سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور انہیں اس بارے میں بتایا ، وہ تشریف لائے ، میں اس وقت نماز پڑھ رہا تھا ، انہوں نے فرمایا : اے ابواسید ! آپ نماز پڑھتے رہیں ، جب میں نے نماز مکمل کی تو انہوں نے دریافت کیا : آپ نے کیا کہا: تھا ؟ میں نے انہیں اس بارے میں بتایا تو انہوں نے فرمایا : وہ ایک ایسا حلہ ہے ، جو میں نے فلاں کی طرف بھیجا تھا اور وہ ایسا شخص ہے جسے غزوہ بدر میں ، غزوہ احد میں اور بیعت عقبہ میں شرکت کا شرف حاصل ہے ، پھر یہ نوجوان اس شخص کے پاس گیا اور اس نوجوان نے اس شخص سے وہ حلہ خرید کر اسے پہن لیا ، مجھے یہ اندازہ نہیں ہے کہ ایسا ( یعنی ترجیحی سلوک ) میرے زمانے میں ہو گا ، راوی کہتے ہیں : تو میں نے کہا: اللہ کی قسم ! اے امیر المؤمنین ! مجھے بھی یہ گمان نہیں تھا کہ یہ صورت حال آپ کے زمانے میں ہو گی ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ اور دیگر کتابوں میں ، اس میں سے صرف یہ حصہ منقول ہے : ” بے شک تم لوگ میرے بعد ترجیحی سلوک کا سامنا کرو گے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں البتہ ابن اسحاق نامی راوی مدلس ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16491
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن