حدیث نمبر: 16481
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : أَصَابَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ حُنَيْنٍ غَنَائِمَ ، فَقَسَّمَ لِلنَّاسِ ، فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ : نَلِي الْقِتَالَ وَالْغَنَائِمُ لِغَيْرِنَا . فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ " أَنِ اجْتَمِعُوا " . فَأَتَاهُمْ فَقَالَ : " يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ ، هَلْ فِيكُمْ أَحَدٌ مِنْ غَيْرِكُمْ ؟ " . قَالُوا : لَا . إِلَّا ابْنَ أُخْتٍ لَنَا وَمَوْلَانَا ، فَقَالَ : " ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ ، وَمَوْلَى الْقَوْمِ مِنْهُمْ " . فَقَالَ : " يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ ، أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالشَّاةِ وَالْبَعِيرِ ، وَتَذْهَبُونَ أَنْتُمْ بِمُحَمَّدٍ إِلَى أَبْيَاتِكُمْ ؟ " . قَالُوا : رَضِينَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ السُّحَيْمِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : غزوہ حنین میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مال غنیمت حاصل ہوا ، وہ آپ نے لوگوں کے درمیان تقسیم کیا تو انصار نے کہا: جنگ ہم کریں اور غنیمت دوسرے لوگوں کو مل جائے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس بات کی اطلاع ملی تو آپ نے انہیں پیغام بھیج کر بلوایا کہ تم لوگ اکٹھے ہو جاؤ ، پھر آپ ان لوگوں کے پاس تشریف لے گئے ، آپ نے فرمایا : اے انصار کے گروہ ! کیا تمہارے درمیان کوئی ایسا فرد ہے ؟ جو تمہارے علاوہ ہو ؟ ان لوگوں نے عرض کی : جی نہیں ! ہمارا ایک بھانجا ہے اور ہمارا ایک غلام ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قوم کا بھانجا ، اُن کا ایک فرد ہوتا ہے ، اور قوم کا غلام ، اُن کا ایک فرد ہوتا ہے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے انصار کے گروہ ! کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو ؟ کہ لوگ بھیڑ بکریاں اور اونٹ لے جائیں اور تم لوگ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے گھروں کی طرف لے جاؤ ، تو ان لوگوں نے عرض کی : ہم اس سے راضی ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن جابر سحیمی ہے اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16481
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12879)»