حدیث نمبر: 16482
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُبَيْرٍ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِلْأَنْصَارِ : " أَلَا تَرْضَوْنَ أَنَّ أَصْلَ النَّاسِ دِثَارٌ وَأَنْتُمْ شِعَارٌ ؟ أَلَا تَرْضَوْنَ أَنَّ النَّاسَ لَوْ سَلَكُوا وَادِيًا وَسَلَكْتُمْ آخَرَ اتَّبَعْتُ وَادِيَكُمْ وَتَرَكْتُ النَّاسَ ؟ وَلَوْلَا أَنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - سَمَّانِي مِنَ الْمُهَاجِرِينَ لَأَحْبَبْتُ أَنْ أَكُونَ [امْرَأً] مِنَ الْأَنْصَارِ ؟ " . قَالُوا : [بَلَى] رَضِينَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ جُبَيْرٍ قِيلَ : إِنَّهُ تَابِعِيٌّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

عبداللہ بن جبیر بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے فرمایا : کیا تم لوگ اس بات سے راضی نہیں ہو ؟ کہ لوگ اوپر اوڑھنے والا لباس ہوں اور تم جسم کے ساتھ لگنے والا لباس ہو ، کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ اگر لوگ ایک وادی میں چلیں اور تم دوسری میں چلو ، تو میں تمہاری وادی میں جاؤں گا اور لوگوں کو چھوڑ دوں گا ، اگر ایسا نہ ہوتا کہ اللہ تعالیٰ نے میرا نام مہاجرین میں شامل کیا ہے ، تو مجھے یہ بات پسند ہوتی کہ میں انصار سے تعلق رکھنے والا ایک فرد ہوتا ، تو ان لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! ہم اس بات سے راضی ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، عبداللہ بن جبیر کے بارے میں ایک قول یہ ہے کہ یہ تابعی ہیں اور یہ ثقہ ہیں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16482
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح