مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْأَنْصَارِ . باب: انصار کی فضیلت کے بارے میں ، جو منقول ہے
وَعَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَسَمَ الْفَيْءَ الَّذِي أَفَاءَ اللَّهُ بِحُنَيْنٍ مِنْ غَنَائِمِ هَوَازِنَ ، فَأَحْسَنَ فَأَفْشَى [ الْقَسْمَ ] فِي أَهْلِ [ مَكَّةَ ] مِنْ قُرَيْشٍ وَغَيْرِهِمْ ، فَغَضِبَتِ الْأَنْصَارُ ، فَلَمَّا سَمِعَ بِذَلِكَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَاهُمْ فِي مَنَازِلِهِمْ ، ثُمَّ قَالَ : " مَنْ كَانَ هَاهُنَا [ لَيْسَ ] مِنَ الْأَنْصَارِ فَلْيَخْرُجْ إِلَى رَحْلِهِ " . ثُمَّ يَشْهَدْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَحَمِدَ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - ثُمَّ قَالَ : " يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ ، قَدْ بَلَغَنِي مِنْ حَدِيثِكُمْ فِي هَذِهِ الْمَغَانِمِ الَّتِي آثَرْتُ بِهَا أُنَاسًا أَتَأَلَّفُهُمْ عَلَى الْإِسْلَامِ ; لَعَلَّهُمْ أَنْ يَشْهَدُوا بَعْدَ الْيَوْمِ ، وَقَدْ أَدْخَلَ اللَّهُ قُلُوبَهُمُ الْإِسْلَامَ " . ثُمَّ قَالَ : " يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ ، أَلَمْ يَمُنَّ اللَّهُ عَلَيْكُمْ بِالْإِيمَانِ ؟ وَخَصَّكُمْ بِالْكَرَامَةِ ، وَسَمَّاكُمْ بِأَحْسَنِ الْأَسْمَاءِ : أَنْصَارِ اللَّهِ ، وَأَنْصَارِ رَسُولِهِ ، وَلَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنَ الْأَنْصَارِ ، وَلَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا وَسَلَكْتُمْ وَادِيًا لَسَلَكْتُ وَادِيَكُمْ ، أَفَلَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ [ بِهَذِهِ الْغَنَائِمِ ] الشَّاءِ وَالنَّعَمِ وَالْبَعِيرِ ، وَتَذْهَبُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ ! " . ¤ فَلَمَا سَمِعَتِ الْأَنْصَارُ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالُوا : رَضِينَا ، قَالَ : " أَجِيبُونِي فِيمَا قُلْتُ " . قَالَتِ الْأَنْصَارُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَجَدْتَنَا فِي ظُلْمَةٍ فَأَخْرَجَنَا اللَّهُ بِكَ إِلَى النُّورِ ، وَوَجَدْتَنَا عَلَى شَفَا حُفْرَةٍ مِنَ النَّارِ فَأَنْقَذَنَا اللَّهُ بِكَ ، وَوَجَدْتَنَا ضُلَّالًا فَهَدَانَا اللَّهُ بِكَ ، قَدْ رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا ، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا ، وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا ، فَاصْنَعْ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا شِئْتَ فِي أَوْسَعِ الْحَلِّ . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَاللَّهِ ، لَوْ أَجَبْتُمُونِي بِغَيْرِ هَذَا الْقَوْلِ لَقُلْتُ : صَدَقْتُمْ ، لَوْ قُلْتُمْ : أَلَمْ تَأْتِنَا طَرِيدًا فَآوَيْنَاكَ ، وَمُكَذَّبًا فَصَدَّقْنَاكَ ، وَمَخْذُولًا فَنَصَرْنَاكَ ، وَقَبِلْنَا مَا رَدَّ النَّاسُ عَلَيْكَ ، لَوْ قُلْتُمْ هَذَا لَصَدَقْتُمْ " . فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ : بَلْ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ الْمَنُّ وَالْفَضْلُ عَلَيْنَا وَعَلَى غَيْرِنَا ، ثُمَّ بَكَوْا فَكَثُرَ بُكَاؤُهُمْ ، وَبَكَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَعَهُمْ [ فَكَانُوا بِالَّذِي قَالَ لَهُمْ أَشَدَّ ارْتِبَاطًا وَأَفْضَلَ عِنْدَهُمْ مِنْ كُلِّ مَالٍ ] . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ ، وَحَدِيثُهُ فِي الرِّقَاقِ وَنَحْوِهَا حَسَنٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے ” ہوازن “ کے مال غنیمت میں سے غزوہ حنین میں مال فئے عطا کیا تھا ، وہ آپ نے تقسیم کر دیا ، آپ نے وہ ( مال و اسباب ) قریش سے تعلق رکھنے والے اہل مکہ اور دیگر لوگوں کے درمیان تقسیم کیا ، اس بات پر انصار غصے میں آ گئے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی اطلاع ملی تو آپ ان کی رہائشی جگہوں پر ان کے پاس تشریف لائے ، آپ نے ارشاد فرمایا : یہاں جو ایسا فرد موجو ہو ، جس کا تعلق انصار سے نہ ہو وہ نکل کر اپنی رہائشی جگہ پر چلا جائے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کلمہ شہادت پڑھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی پھر آپ نے ارشاد فرمایا : ” اے انصار کے گروہ ! اس مال غنیمت کے بارے میں تمہاری جو بات ہے ، وہ مجھ تک پہنچی ہے ، جس کے حوالے سے میں نے تمہارے ساتھ کچھ ترجیحی سلوک کیا ہے ، میں اس کے ذریعے ان لوگوں کو اسلام سے مانوس کرنا چاہتا تھا ہو سکتا ہے کہ وہ آج کے بعد ایسی کسی جنگ میں شریک نہ ہوں ، تو اللہ تعالیٰ ان کے دلوں میں اسلام داخل کر دے “ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے انصار کے گروہ ! کیا اللہ تعالیٰ نے ایمان کے ذریعے تم پر احسان نہیں کیا ؟ اور تمہیں خصوصی کرامت عطا نہیں کی اس نے تمہارا نام سب سے عمدہ رکھا ہے کہ اللہ کے مددگار ، اس کے رسول کے مددگار ، اگر ہجرت نہ ہوتی ، تو میں انصار سے تعلق رکھنے والا ایک فرد ہوتا ، اگر لوگ ایک وادی میں چلیں اور تم دوسری وادی میں چلو ، تو میں تمہاری وادی میں چلوں گا ، تو کیا تم اس چیز سے راضی نہیں ہو ؟ کہ لوگ اس مال غنیمت کو لے جائیں ، بھیڑ بکریاں اور اونٹ لے جائیں اور تم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو لے جاؤ “
جب انصار نے یہ بات سنی تو انہوں نے کہا: ہم راضی ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے جو تمہیں کہا: ہے ، اس کے بارے میں تم مجھے جواب دو ، انصار نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے ہمیں ظلمت میں پایا تھا ، تو اللہ تعالیٰ نے آپ کے ذریعے ہمیں اس میں سے نکال کر نور کی طرف لے گیا ، آپ نے ہمیں جہنم کے گڑھے کے کنارے پر پایا تھا ، تو اللہ تعالیٰ نے آپ کے ذریعے ہمیں اس سے بچا لیا ، آپ نے ہمیں گمراہ پایا تھا تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں آپ کے ذریعے ہدایت نصیب کی ، ہم اللہ تعالیٰ کے پروردگار ہونے ، اسلام کے دین ہونے اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے سے راضی ہیں ، یا رسول اللہ ! آپ جیسے چاہیں ، جو چاہیں کریں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ کی قسم ! اگر تم مجھے اس کے علاوہ کوئی اور جواب دیتے تو میں یہ کہتا کہ تم نے ٹھیک کہا: ہے ، اگر تم یہ کہتے کہ کیا آپ ایسی حالت میں ہمارے پاس نہیں آئے تھے کہ آپ کو نکال دیا گیا تھا ، تو ہم نے آپ کو پناہ دی ، آپ کو جھٹلایا جا رہا تھا ، تو ہم نے آپ کی تصدیق کی ، آپ کو چھوڑ دیا گیا تو ہم نے آپ کی مدد کی ، اور لوگوں نے آپ کو جواب دیا تھا تو ہم نے آپ کو قبول کیا ، اگر تم لوگ یہ بات کہتے ، تو تم سچے ہوتے ، انصار نے کہا: بلکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فضل اور احسان ہے ، جو ہم پر ہے اور ہمارے علاوہ دوسرے لوگوں پر ہے ، پھر وہ لوگ رونے لگے ، یہاں تک کہ ان کا رونا بہت زیادہ ہو گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ رونے لگے پھر ان لوگوں کو اس حوالے سے زیادہ فخر محسوس ہوا اور یہ چیز ان کے نزدیک ہر قسم کے مال سے زیادہ فضیلت رکھتی تھی ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے فرمایا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی رشدین بن سعد ہے ، اس کی نقل کردہ حدیث ، دلوں کو نرم کرنے سے متعلق موضوعات اور اس جیسے دیگر موضوعات میں حسن شمار ہوتی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔