مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْأَنْصَارِ . باب: انصار کی فضیلت کے بارے میں ، جو منقول ہے
وَعَنْ جَابِرٍ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا فُتِحَتْ حُنَيْنٌ بَعَثَ سَرَايَا فَأَتَوْا بِالْإِبِلِ وَالشَّاةِ ، فَقَسَّمُوهَا فِي قُرَيْشٍ ، فَوَجَدْنَا أَيُّهَا الْأَنْصَارُ [ عَلَيْهِ ] ، فَبَلَغَهُ ذَلِكَ ، فَجَمَعَنَا فَخَطَبَنَا فَقَالَ : " أَلَا تَرْضَوْنَ أَنَّكُمْ أُعْطِيتُمْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ ! فَوَاللَّهِ ، لَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا وَسَلَكْتُمْ شِعْبًا لَأَتْبَعْتُ شُعْبَتَكُمْ " . قَالُوا : رَضِينَا يَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْكَ يَا مُحَمَّدُ - . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کو فتح کر لیا اور آپ نے اپنے دستوں کو بھیجا ، تو وہ لوگ اونٹ اور بکریاں لے کر آئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ سب چیزیں قریش میں تقسیم کر دیں ، ہمیں انصار کو اس حوالے سے الجھن ہوئی اس بات کی اطلاع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اکٹھا کیا اور آپ نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : ” کیا تم لوگ اس بات سے راضی نہیں ہو ؟ کہ تمہیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم دیدیے گئے ہیں ، اللہ کی قسم ! اگر لوگ ایک وادی میں چلیں ، اور تم لوگ ایک گھاٹی میں چلو ، تو میں تمہاری گھاٹی میں جاؤں گا “ لوگوں نے عرض کی : ہم راضی ہیں ، یا رسول اللہ ! اے سیدنا محمد ! اللہ تعالیٰ آپ پر درود نازل کرے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ حسن الحدیث ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔