حدیث نمبر: 16445
وَعَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ : كُنْتُ قَاعِدًا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ جَاءَ مِنْ بَدْرٍ ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ : وَهَلْ لَقِينَا إِلَّا عَجَائِزَ كَالْجُزُرِ الْمُعَقَّلَةِ فَنَحَرْنَاهَا ؟ فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى رَأَيْتُهُ كَأَنَّهُ تَفَقَّأَ فِيهِ حَبُّ الرُّمَّانِ ، ثُمَّ قَالَ : " يَا ابْنَ أَخِي ، لَا تَقُلْ ذَلِكَ ، أُولَئِكَ الْمَلَأُ الْأَكْبَرُ مِنْ قُرَيْشٍ ، أَمَا لَوْ رَأَيْتَهُمْ فِي مَجَالِسِهِمْ بِمَكَّةَ هِبَتَهُمْ " . فَوَاللَّهِ ، لَأَتَيْتُ مَكَّةَ فَرَأَيْتُهُمْ قُعُودًا فِي الْمَسْجِدِ فِي مَجَالِسِهِمْ ، فَمَا قَدَرْتُ عَلَى أَنَّ أُسَلِّمَ عَلَيْهِمْ مِنْ هَيْبَتِهِمْ ، فَذَكَرْتُ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَوْ رَأَيْتَهُمْ فِي مَجَالِسِهِمْ لَهِبْتَهُمْ " . ¤ قَالَ عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا مَعَاشِرَ النَّاسِ ، أَحِبُّوا قُرَيْشًا ; فَإِنَّهُ مَنْ أَحَبَّ قُرَيْشًا فَقَدْ أَحَبَّنِي ، وَمَنْ أَبْغَضَ قُرَيْشًا فَقَدْ أَبْغَضَنِي ، إِنَّ اللَّهَ حَبَّبَ إِلَيَّ قَوْمِي ; فَلَا أَتَعَجَّلُ لَهُمْ نِقْمَةً ، وَلَا أَسْتَكْثِرُ لَهُمْ نِعْمَةً . اللَّهُمَّ إِنَّكَ أَذَقْتَ أَوَّلَ قُرَيْشٍ نَكَالًا فَأَذِقْ آخِرَهَا نَوَالًا ، أَلَا إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى عَلِمَ مَا فِي قَلْبِي مِنْ حُبِّي لِقَوْمِي فَسَرَّنِي فِيهِمْ ، قَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - : وَإِنَّهُ لَذِكْرٌ لَكَ وَلِقَوْمِكَ وَسَوْفَ تُسْأَلُونَ فَجَعَلَ الذِّكْرَ ، وَالشَّرَفَ لِقَوْمِي ، فِي كِتَابِهِ فَقَالَ : وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ يَعْنِي : قَوْمِي ، فَالْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ الصِّدِّيقَ [مِنْ قَوْمِي] ، وَالشَّهِيدَ مِنْ قَوْمِي ، وَالْأَئِمَّةَ مِنْ قَوْمِي ، إِنِ اللَّهَ قَلَبَ الْعِبَادَ ظَهْرًا لِبَطْنٍ ، فَكَانَ خَيْرَ الْعَرَبِ قُرَيْشٌ ، وَهِيَ الشَّجَرَةُ الْمُبَارَكَةُ الَّتِي قَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - فِي كِتَابِهِ : مَثَلًا كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ أَصْلُهَا ثَابِتٌ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ قُرَيْشٌا (أَصْلُهَا ثَابِتٌ) يَقُولُ : أَصْلُهَا كَرَمٌ (وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ ) يَقُولُ : الشَّرَفُ الَّذِي شَرَّفَهُمُ اللَّهُ بِهِ بِالْإِسْلَامِ الَّذِي هَدَاهُمْ لَهُ ، وَجَعَلَهُمْ أَهْلَهُ . ثُمَّ أَنْزَلُ فِيهِمْ سُورَةً مِنْ كِتَابِهِ مُحْكَمَةً : لِإِيلَافِ قُرَيْشٍ إِيلَافِهِمْ رِحْلَةَ الشِّتَاءِ وَالصَّيْفِ فَلْيَعْبُدُوا رَبَّ هَذَا الْبَيْتِ الَّذِي أَطْعَمَهُمْ مِنْ جُوعٍ وَآمَنَهُمْ مِنْ خَوْفٍ " . ¤ قَالَ عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ : مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذُكِرَتْ عِنْدَهُ قُرَيْشٌ بِخَيْرٍ قَطُّ إِلَّا سَرَّهُ ، حَتَّى يَتَبَيَّنَ السُّرُورُ فِي وَجْهِهِ ، وَكَانَ يَتْلُو هَذِهِ الْآيَةَ : " وَإِنَّهُ لَذِكْرٌ لَكَ وَلِقَوْمِكَ وَسَوْفَ تُسْأَلُونَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ حُسَيْنٌ السَّلُولِيُّ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، یہ اس وقت کی بات ہے جب آپ بدر سے تشریف لائے تھے ، انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے کہا: ہمارا سامنا بوڑھی عورتوں سے ہوا ، جو بندھے ہوئے اونٹوں کی مانند تھیں ، تو ہم نے انہیں ذبح کر دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کی رنگت تبدیل ہو گئی ، یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے آپ کے اوپر انار کا رس انڈیل دیا گیا ہو ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : اے میرے بھتیجے ! تم اس طرح نہ کہو ، وہ قریش سے تعلق رکھنے والے بڑے لوگ تھے ، اگر تم مکہ میں انہیں ان کی محفلوں میں دیکھ لیتے ، تو تم ان سے ہیبت زدہ ہو جاتے ، راوی کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! میں مکہ آیا ، میں نے ان لوگوں کو مسجد حرام کے پاس اپنی محفلوں میں بیٹھا ہوا دیکھا ، تو مجھے یہ بھی قدرت حاصل نہیں ہو سکی کہ میں انہیں سلام کرتا اور اس کی وجہ ان لوگوں کی ہیبت تھی ، تو مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان یاد آیا : ” اگر تم انہیں ان کی مخصوص محفلوں میں دیکھتے ، تو ان سے ہیبت زدہ ہو جاتے ۔ “
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے لوگوں کے گروہ ! تم قریش سے محبت رکھو ، کیونکہ جو شخص قریش سے محبت رکھے گا ، وہ مجھ سے محبت رکھے گا اور جو قریش سے بغض رکھے گا وہ مجھ سے بغض رکھے گا ، بے شک اللہ تعالیٰ نے میرے نزدیک میری قوم کو محبوب کر دیا ہے ، تو میں ان سے انتقام لینے میں جلدی نہیں کروں گا ، اور ان کے لئے نعمت زیادہ طلب نہیں کروں گا ، اے اللہ ! تو نے قریش کے ابتدائی حصے کو سزا کا ذائقہ چکھایا تھا ، تو ان کے آخری حصے کو عطیات کا ذائقہ چکھا دے ، خبردار ! اللہ تعالیٰ یہ بات جانتا ہے کہ میرے دل میں کیا ہے ؟ جو میرے دل میں اپنی قوم کے لئے محبت ہے ، تو اللہ تعالیٰ نے مجھے ان لوگوں کے بارے میں خوش کیا اور اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : ” یہ تمہارے لئے اور تمہاری قوم کے لئے نصیحت ہے اور عنقریب تم لوگوں سے حساب لیا جائے گا ۔ “
تو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں نصیحت اور شرف ، میری قوم کے لئے مخصوص کیا اور ارشاد فرمایا : ” اور تم اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈراؤ ! اور اپنے پر ان کے لئے جھکا کے رکھو ، جو مومنین تمہاری پیروی کرتے ہیں ۔ “
اس سے مراد بھی ، میری قوم کے لوگ ہیں ، تو ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے جس نے صدیق کو میری قوم میں سے بنایا ہے ، شہید کو میری قوم میں سے بنایا ہے ، حکمرانوں کو میری قوم میں سے بنایا ہے ، بے شک اللہ تعالیٰ نے بندوں کے دل اُلٹ پلٹ کر دیکھے ، تو عربوں میں سب سے بہتر قریش تھے اور یہی وہ مبارک درخت ہے ، جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ارشاد فرمایا ہے : ” اس کی مثال ایک پاکیزہ کلمے کی طرح ہے ، جو پاکیزہ درخت کی مانند ہوتا ہے ، جس کی جڑ مضبوط ہوتی ہے اور اس کی شاخ آسمان میں ہوتی ہے ۔ “
اس سے مراد قریش ہیں ، اس کی اصل مضبوط ہوتی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : اس سے مراد ان کی اصل کا معزز ہونا ہے اور اس کی جڑ آسمان میں ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس سے مراد ، وہ شرف ہے جو اللہ تعالیٰ نے انہیں اسلام کے حوالے سے دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اسلام کی ہدایت نصیب کی اور انہیں اہل اسلام میں بنا دیا ۔
پھر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے بارے میں اپنی کتاب میں ایک پوری سورت نازل کی ہے : ( ارشاد باری تعالی ہے : )
” قریش کو رغبت دی سردی اور گرمی کے ( تجارتی ) سفر کی رغبت ان کو دی ، تو انہیں چاہیے کہ اس گھر کے پروردگار کی عبادت کریں جو ( ان کے ) بھوک کے عالم میں انہیں کھانے کے لیے دیتا ہے ، اور خوف سے انہیں محفوظ رکھتا ہے ۔ “
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب بھی آپ کے سامنے قریش کا ذکر بھلائی کے حوالے سے کیا جاتا ، تو اس بات پر آپ خوش ہوتے تھے ، یہاں تک کہ خوشی کے آثار آپ کے چہرے سے ظاہر ہوتے تھے ، آپ یہ آیت تلاوت کیا کرتے تھے : ” اور یہ تمہارے لئے اور تمہاری قوم کے لئے نصیحت ہے اور تم سے عنقریب حساب لیا جائے گا ۔ “

یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسین سلولی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16445
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (86/17)»