مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ قُرَيْشٍ . باب: قریش کی فضیلت کے بارے میں ، جو منقول ہے
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ : أَنَّ قَتَادَةَ بْنَ النُّعْمَانِ الظَّفَرِيَّ وَقَعَ بِقُرَيْشٍ ، فَكَأَنَّهُ نَالَ مِنْهُمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا قَتَادَةُ ، لَا تَسُبَّنَّ قُرَيْشًا ; فَإِنَّكَ لَعَلَّكَ أَنْ تَرَى مِنْهُمْ رِجَالًا تَزْدَرِي عَمَلَكَ مَعَ أَعْمَالِهِمْ ، وَفِعْلَكَ مَعَ أَفْعَالِهِمْ ، وَتَغْبِطُهُمْ إِذَا رَأَيْتَهُمْ ، لَوْلَا أَنْ تَطْغَى قُرَيْشٌ لَأَخْبَرْتُهُمْ بِالَّذِي لَهُمْ عِنْدَ اللَّهِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ مُرْسَلًا وَمُسْنَدًا ، وَأَحَالَ لَفْظَ الْمُسْنَدِ عَلَى الْمُرْسَلِ ، وَالْبَزَّارُ كَذَلِكَ ، وَالطَّبَرَانِيُّ مُسْنَدًا ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ فِي الْمُسْنَدِ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ فِي الْمُرْسَلِ وَالْمُسْنَدِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَسْلَمَ فِي مُسْنَدِ أَحْمَدَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَفِي بَعْضِ رِجَالِ الطَّبَرَانِيِّ خِلَافٌ . ¤محمد بن ابراہیم تیمی بیان کرتے ہیں : سیدنا قتادہ بن نعمان ظفری رضی اللہ عنہ نے قریش پر تنقید کرتے ہوئے انہیں برا بھلا کہا: ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے قتادہ ! تم قریش کو برا نہ کہو کیونکہ ہو سکتا ہے ، تم ان میں ایسے افراد کو دیکھو کہ تم ان کے اعمال کے مقابلے میں ، اپنے اعمال کو حقیر سمجھو گے اور ان کے افعال کے مقابلے میں ، اپنے افعال کو حقیر سمجھو گے ، اور جب تم انہیں دیکھو گے تو تم اُن پر رشک کرو گے ، اگر اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ قریش سرکشی کا شکار ہو جائیں گے , تو میں انہیں اس بارے میں بتاتا کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں انہیں کیا قدر و منزلت حاصل ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے ” مرسل “ اور ” مسند “ طور پر نقل کی ہے ، انہوں نے ” مسند “ کے لفظ کو ” مرسل “ کی طرف لوٹا دیا ہے بزار نے بھی اسی طرح نقل کی ہے ، امام طبرانی نے اسے ” مسند “ طور پر نقل کیا ہے ” مسند “ میں بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں اور ” مرسل “ اور ” مسند “ میں ، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف جعفر بن عبداللہ بن اسلم نامی راوی کا معاملہ مختلف ہے ” مسند أحمد “ میں ہے اور وہ ثقہ ہے ، طبرانی کے بعض رجال کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔