کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: قریش کی فضیلت کے بارے میں ، جو منقول ہے
حدیث نمبر: 16444
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ : أَنَّ قَتَادَةَ بْنَ النُّعْمَانِ الظَّفَرِيَّ وَقَعَ بِقُرَيْشٍ ، فَكَأَنَّهُ نَالَ مِنْهُمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا قَتَادَةُ ، لَا تَسُبَّنَّ قُرَيْشًا ; فَإِنَّكَ لَعَلَّكَ أَنْ تَرَى مِنْهُمْ رِجَالًا تَزْدَرِي عَمَلَكَ مَعَ أَعْمَالِهِمْ ، وَفِعْلَكَ مَعَ أَفْعَالِهِمْ ، وَتَغْبِطُهُمْ إِذَا رَأَيْتَهُمْ ، لَوْلَا أَنْ تَطْغَى قُرَيْشٌ لَأَخْبَرْتُهُمْ بِالَّذِي لَهُمْ عِنْدَ اللَّهِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ مُرْسَلًا وَمُسْنَدًا ، وَأَحَالَ لَفْظَ الْمُسْنَدِ عَلَى الْمُرْسَلِ ، وَالْبَزَّارُ كَذَلِكَ ، وَالطَّبَرَانِيُّ مُسْنَدًا ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ فِي الْمُسْنَدِ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ فِي الْمُرْسَلِ وَالْمُسْنَدِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَسْلَمَ فِي مُسْنَدِ أَحْمَدَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَفِي بَعْضِ رِجَالِ الطَّبَرَانِيِّ خِلَافٌ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن ابراہیم تیمی بیان کرتے ہیں : سیدنا قتادہ بن نعمان ظفری رضی اللہ عنہ نے قریش پر تنقید کرتے ہوئے انہیں برا بھلا کہا: ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
” اے قتادہ ! تم قریش کو برا نہ کہو کیونکہ ہو سکتا ہے ، تم ان میں ایسے افراد کو دیکھو کہ تم ان کے اعمال کے مقابلے میں ، اپنے اعمال کو حقیر سمجھو گے اور ان کے افعال کے مقابلے میں ، اپنے افعال کو حقیر سمجھو گے ، اور جب تم انہیں دیکھو گے تو تم اُن پر رشک کرو گے ، اگر اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ قریش سرکشی کا شکار ہو جائیں گے , تو میں انہیں اس بارے میں بتاتا کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں انہیں کیا قدر و منزلت حاصل ہے ۔ “

یہ روایت امام أحمد نے ” مرسل “ اور ” مسند “ طور پر نقل کی ہے ، انہوں نے ” مسند “ کے لفظ کو ” مرسل “ کی طرف لوٹا دیا ہے بزار نے بھی اسی طرح نقل کی ہے ، امام طبرانی نے اسے ” مسند “ طور پر نقل کیا ہے ” مسند “ میں بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں اور ” مرسل “ اور ” مسند “ میں ، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف جعفر بن عبداللہ بن اسلم نامی راوی کا معاملہ مختلف ہے ” مسند أحمد “ میں ہے اور وہ ثقہ ہے ، طبرانی کے بعض رجال کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16444
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2787) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6/19) اخرجه احمد فى المسند (384/6)»
حدیث نمبر: 16445
وَعَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ : كُنْتُ قَاعِدًا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ جَاءَ مِنْ بَدْرٍ ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ : وَهَلْ لَقِينَا إِلَّا عَجَائِزَ كَالْجُزُرِ الْمُعَقَّلَةِ فَنَحَرْنَاهَا ؟ فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى رَأَيْتُهُ كَأَنَّهُ تَفَقَّأَ فِيهِ حَبُّ الرُّمَّانِ ، ثُمَّ قَالَ : " يَا ابْنَ أَخِي ، لَا تَقُلْ ذَلِكَ ، أُولَئِكَ الْمَلَأُ الْأَكْبَرُ مِنْ قُرَيْشٍ ، أَمَا لَوْ رَأَيْتَهُمْ فِي مَجَالِسِهِمْ بِمَكَّةَ هِبَتَهُمْ " . فَوَاللَّهِ ، لَأَتَيْتُ مَكَّةَ فَرَأَيْتُهُمْ قُعُودًا فِي الْمَسْجِدِ فِي مَجَالِسِهِمْ ، فَمَا قَدَرْتُ عَلَى أَنَّ أُسَلِّمَ عَلَيْهِمْ مِنْ هَيْبَتِهِمْ ، فَذَكَرْتُ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَوْ رَأَيْتَهُمْ فِي مَجَالِسِهِمْ لَهِبْتَهُمْ " . ¤ قَالَ عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا مَعَاشِرَ النَّاسِ ، أَحِبُّوا قُرَيْشًا ; فَإِنَّهُ مَنْ أَحَبَّ قُرَيْشًا فَقَدْ أَحَبَّنِي ، وَمَنْ أَبْغَضَ قُرَيْشًا فَقَدْ أَبْغَضَنِي ، إِنَّ اللَّهَ حَبَّبَ إِلَيَّ قَوْمِي ; فَلَا أَتَعَجَّلُ لَهُمْ نِقْمَةً ، وَلَا أَسْتَكْثِرُ لَهُمْ نِعْمَةً . اللَّهُمَّ إِنَّكَ أَذَقْتَ أَوَّلَ قُرَيْشٍ نَكَالًا فَأَذِقْ آخِرَهَا نَوَالًا ، أَلَا إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى عَلِمَ مَا فِي قَلْبِي مِنْ حُبِّي لِقَوْمِي فَسَرَّنِي فِيهِمْ ، قَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - : وَإِنَّهُ لَذِكْرٌ لَكَ وَلِقَوْمِكَ وَسَوْفَ تُسْأَلُونَ فَجَعَلَ الذِّكْرَ ، وَالشَّرَفَ لِقَوْمِي ، فِي كِتَابِهِ فَقَالَ : وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ يَعْنِي : قَوْمِي ، فَالْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ الصِّدِّيقَ [مِنْ قَوْمِي] ، وَالشَّهِيدَ مِنْ قَوْمِي ، وَالْأَئِمَّةَ مِنْ قَوْمِي ، إِنِ اللَّهَ قَلَبَ الْعِبَادَ ظَهْرًا لِبَطْنٍ ، فَكَانَ خَيْرَ الْعَرَبِ قُرَيْشٌ ، وَهِيَ الشَّجَرَةُ الْمُبَارَكَةُ الَّتِي قَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - فِي كِتَابِهِ : مَثَلًا كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ أَصْلُهَا ثَابِتٌ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ قُرَيْشٌا (أَصْلُهَا ثَابِتٌ) يَقُولُ : أَصْلُهَا كَرَمٌ (وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ ) يَقُولُ : الشَّرَفُ الَّذِي شَرَّفَهُمُ اللَّهُ بِهِ بِالْإِسْلَامِ الَّذِي هَدَاهُمْ لَهُ ، وَجَعَلَهُمْ أَهْلَهُ . ثُمَّ أَنْزَلُ فِيهِمْ سُورَةً مِنْ كِتَابِهِ مُحْكَمَةً : لِإِيلَافِ قُرَيْشٍ إِيلَافِهِمْ رِحْلَةَ الشِّتَاءِ وَالصَّيْفِ فَلْيَعْبُدُوا رَبَّ هَذَا الْبَيْتِ الَّذِي أَطْعَمَهُمْ مِنْ جُوعٍ وَآمَنَهُمْ مِنْ خَوْفٍ " . ¤ قَالَ عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ : مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذُكِرَتْ عِنْدَهُ قُرَيْشٌ بِخَيْرٍ قَطُّ إِلَّا سَرَّهُ ، حَتَّى يَتَبَيَّنَ السُّرُورُ فِي وَجْهِهِ ، وَكَانَ يَتْلُو هَذِهِ الْآيَةَ : " وَإِنَّهُ لَذِكْرٌ لَكَ وَلِقَوْمِكَ وَسَوْفَ تُسْأَلُونَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ حُسَيْنٌ السَّلُولِيُّ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، یہ اس وقت کی بات ہے جب آپ بدر سے تشریف لائے تھے ، انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے کہا: ہمارا سامنا بوڑھی عورتوں سے ہوا ، جو بندھے ہوئے اونٹوں کی مانند تھیں ، تو ہم نے انہیں ذبح کر دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کی رنگت تبدیل ہو گئی ، یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے آپ کے اوپر انار کا رس انڈیل دیا گیا ہو ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : اے میرے بھتیجے ! تم اس طرح نہ کہو ، وہ قریش سے تعلق رکھنے والے بڑے لوگ تھے ، اگر تم مکہ میں انہیں ان کی محفلوں میں دیکھ لیتے ، تو تم ان سے ہیبت زدہ ہو جاتے ، راوی کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! میں مکہ آیا ، میں نے ان لوگوں کو مسجد حرام کے پاس اپنی محفلوں میں بیٹھا ہوا دیکھا ، تو مجھے یہ بھی قدرت حاصل نہیں ہو سکی کہ میں انہیں سلام کرتا اور اس کی وجہ ان لوگوں کی ہیبت تھی ، تو مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان یاد آیا :
” اگر تم انہیں ان کی مخصوص محفلوں میں دیکھتے ، تو ان سے ہیبت زدہ ہو جاتے ۔ “
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
” اے لوگوں کے گروہ ! تم قریش سے محبت رکھو ، کیونکہ جو شخص قریش سے محبت رکھے گا ، وہ مجھ سے محبت رکھے گا اور جو قریش سے بغض رکھے گا وہ مجھ سے بغض رکھے گا ، بے شک اللہ تعالیٰ نے میرے نزدیک میری قوم کو محبوب کر دیا ہے ، تو میں ان سے انتقام لینے میں جلدی نہیں کروں گا ، اور ان کے لئے نعمت زیادہ طلب نہیں کروں گا ، اے اللہ ! تو نے قریش کے ابتدائی حصے کو سزا کا ذائقہ چکھایا تھا ، تو ان کے آخری حصے کو عطیات کا ذائقہ چکھا دے ، خبردار ! اللہ تعالیٰ یہ بات جانتا ہے کہ میرے دل میں کیا ہے ؟ جو میرے دل میں اپنی قوم کے لئے محبت ہے ، تو اللہ تعالیٰ نے مجھے ان لوگوں کے بارے میں خوش کیا اور اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا :
” یہ تمہارے لئے اور تمہاری قوم کے لئے نصیحت ہے اور عنقریب تم لوگوں سے حساب لیا جائے گا ۔ “
تو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں نصیحت اور شرف ، میری قوم کے لئے مخصوص کیا اور ارشاد فرمایا :
” اور تم اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈراؤ ! اور اپنے پر ان کے لئے جھکا کے رکھو ، جو مومنین تمہاری پیروی کرتے ہیں ۔ “
اس سے مراد بھی ، میری قوم کے لوگ ہیں ، تو ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے جس نے صدیق کو میری قوم میں سے بنایا ہے ، شہید کو میری قوم میں سے بنایا ہے ، حکمرانوں کو میری قوم میں سے بنایا ہے ، بے شک اللہ تعالیٰ نے بندوں کے دل اُلٹ پلٹ کر دیکھے ، تو عربوں میں سب سے بہتر قریش تھے اور یہی وہ مبارک درخت ہے ، جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ارشاد فرمایا ہے :
” اس کی مثال ایک پاکیزہ کلمے کی طرح ہے ، جو پاکیزہ درخت کی مانند ہوتا ہے ، جس کی جڑ مضبوط ہوتی ہے اور اس کی شاخ آسمان میں ہوتی ہے ۔ “
اس سے مراد قریش ہیں ، اس کی اصل مضبوط ہوتی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : اس سے مراد ان کی اصل کا معزز ہونا ہے اور اس کی جڑ آسمان میں ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس سے مراد ، وہ شرف ہے جو اللہ تعالیٰ نے انہیں اسلام کے حوالے سے دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اسلام کی ہدایت نصیب کی اور انہیں اہل اسلام میں بنا دیا ۔
پھر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے بارے میں اپنی کتاب میں ایک پوری سورت نازل کی ہے : ( ارشاد باری تعالی ہے : )
” قریش کو رغبت دی سردی اور گرمی کے ( تجارتی ) سفر کی رغبت ان کو دی ، تو انہیں چاہیے کہ اس گھر کے پروردگار کی عبادت کریں جو ( ان کے ) بھوک کے عالم میں انہیں کھانے کے لیے دیتا ہے ، اور خوف سے انہیں محفوظ رکھتا ہے ۔ “
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب بھی آپ کے سامنے قریش کا ذکر بھلائی کے حوالے سے کیا جاتا ، تو اس بات پر آپ خوش ہوتے تھے ، یہاں تک کہ خوشی کے آثار آپ کے چہرے سے ظاہر ہوتے تھے ، آپ یہ آیت تلاوت کیا کرتے تھے :
” اور یہ تمہارے لئے اور تمہاری قوم کے لئے نصیحت ہے اور تم سے عنقریب حساب لیا جائے گا ۔ “

یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسین سلولی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16445
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (86/17)»
حدیث نمبر: 16446
وَعَنْ أُمِّ هَانِئٍ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " فَضَّلَ اللَّهُ قُرَيْشًا بِسَبْعِ خِصَالٍ لَمْ يُعْطَهَا أَحَدٌ قَبْلَهُمْ ، وَلَا يُعْطَاهَا أَحَدٌ بَعْدَهُمْ ، فَضَّلَ اللَّهُ قُرَيْشًا : بِأَنِّي مِنْهُمْ ، وَأَنَّ النُّبُوَّةَ فِيهِمْ ، وَأَنَّ الْحِجَابَةَ فِيهِمْ ، وَأَنَّ السِّقَايَةَ فِيهِمْ ، وَنَصَرَهُمْ عَلَى الْفِيلِ ، وَعَبَدُوا اللَّهَ عَشْرَ سِنِينَ لَا يَعْبُدُهُ غَيْرُهُمْ ، وَأَنْزَلَ فِيهِمْ سُورَةً مِنَ الْقُرْآنِ لَمْ تَنْزِلْ فِي أَحَدٍ غَيْرَهُمْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالی نے قریش کو سات خصوصیات کے حوالے سے فضیلت عطا کی ہے ، جو اُن سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں ، اور ان کے بعد کسی کو نہیں دی جائیں گی ، اللہ تعالیٰ نے قریش کو یہ فضیلت دی ہے کہ میں اُن میں سے ہوں اور نبوت ان میں ہے ، اور حجابہ کا منصب ان میں ہے اور سقایہ کا منصب ان میں ہے ، اور اللہ تعالیٰ نے ہاتھیوں کے خلاف ان لوگوں کی مدد کی اور ان لوگوں نے دس سال تک یوں اللہ تعالیٰ کی عبادت کی کہ ان کے علاوہ اور کسی نے اللہ تعالیٰ کی عبادت نہیں کی ، اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے بارے میں ، قرآن کی ایک سورت نازل کی ، اُن کے علاوہ اور کسی کے بارے میں ( کوئی مستقل سورت ) نازل نہیں ہوئی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16446
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 16447
وَعَنِ الزُّبَيْرِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " فَضَّلَ اللَّهُ قُرَيْشًا بِسَبْعِ خِصَالٍ : فَضَّلَهُمْ بِأَنَّهُمْ عَبَدُوا اللَّهَ عَشْرَ سِنِينَ لَا يَعْبُدُهُ إِلَّا قُرَشِيٌّ ، وَفَضَّلَهُمْ بِأَنَّهُمْ نَصَرَهُمُ اللَّهُ عَلَى الْفِيلِ وَهُمْ مُشْرِكُونَ ، وَفَضَّلَهُمْ بِأَنَّهُمْ نَزَلَتْ فِيهِمْ سُورَةٌ مِنَ الْقُرْآنِ لَمْ يَدْخُلْ فِيهِمْ غَيْرُهُمْ : لِإِيلَافِ قُرَيْشٍ ، وَفَضَّلَهُمْ بِأَنَّ فِيهِمُ النُّبُوَّةَ ، وَالْخِلَافَةَ ، وَالْحِجَابَةَ ، وَالسِّقَايَةَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ ضُعِّفَ ، وَوَثَّقَهُمُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قریش کو اللہ تعالیٰ نے سات خصوصیات کے حوالے سے فضیلت عطا کی ہے ، اللہ تعالیٰ نے انہیں یہ فضیلت دی ہے کہ وہ دس سال تک اللہ تعالیٰ کی یوں عبادت کرتے رہے ہیں کہ اس وقت اللہ تعالیٰ کی عبادت صرف کسی قریشی نے ہی کی ، اور اللہ تعالیٰ نے انہیں یہ فضیلت دی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہاتھیوں کے خلاف اُن کی مدد کی ، جبکہ وہ لوگ مشرک تھے ، اور اللہ تعالیٰ نے انہیں یہ فضیلت عطا کی ہے کہ ان کے بارے میں قرآن کی ایک سورت نازل ہوئی ہے ، جس میں ان کے علاوہ کسی اور کا تذکرہ نہیں ہے ” لایلاف قریش “ اور اللہ تعالیٰ نے انہیں یہ فضیلت عطا کی کہ ان کے نبوت ، خلافت ، حجابہ اور سقایہ کے منصب ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جنہیں ضعیف قرار دیا گیا ہے ، ابن حبان نے انہیں ثقہ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16447
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 16448
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ : أَقْحَمَتِ السَّنَةُ نَابِغَةَ بَنِي جَعْدَةَ ، فَأَتَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ وَهُوَ جَالِسٌ بِالْمَدِينَةِ فَأَنْشَأَ يَقُولُ : ¤ حَكَيْتَ لَنَا الصِّدِّيقَ لَمَا وَلَيْتَنَا وَعُثْمَانَ وَالْفَارُوقَ فَارْتَاحَ مُعْدَمُ وَسَوَّيَتْ بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ فَاسَتَوَوْا ¤ فَعَادَ صَبَاحًا حَالِكُ اللَّيْلِ مُظْلِمُ أَتَاكَ أَبُو لَيْلَى تَحَوَّلَ بِهِ الدُّجَى ¤ دُجَى اللَّيْلِ جَوَابَ الْفَلَاةِ عَتَمْتُمْ لِتَجَبُرَ مِنْهُ جَانِبًا زَعْزَعَتْ بِهِ ¤ صُرُوفُ اللَّيَالِي وَالزَّمَانُ الْمُصَمْصِمُ فَقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ : إِلَيْكَ يَا أَبَا لَيْلَى ، فَإِنَّ الشِّعْرَ أَهْوَنُ وَسَائِلِكَ عِنْدَنَا ، أَمَّا صَفْوَةُ مَالِنَا فَلِآلِ الزُّبَيْرِ ، وَأَمَّا عُيُونُهُ فَإِنَّ بَنِي أَسَدٍ يَشْغَلُهَا عَنْكَ وَتَمِيمًا ، وَلَكِنْ لَكَ فِي مَالِ اللَّهِ حَقَّانِ : حَقٌّ لِرُؤْيَتِكَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَحَقٌّ لِشَرِكَتِكَ أَهْلَ الْإِسْلَامِ فِي الْإِسْلَامِ ، ثُمَّ أَمَرَ بِهِ فَأُدْخِلُ دَارَ النَّعَمِ ، وَأَمَرَ لَهُ بِقَلَائِصَ سَبْعٍ ، وَحَمْلٍ وَخَيْلٍ ، وَأَوْقَرَ لَهُ الرِّكَابَ بُرًّا وَتَمْرًا ، فَجَعَلَ النَّابِغَةُ يَسْتَعْجِلُ فَيَأْكُلُ الْحَبَّ صَرْفًا ، فَقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ : وَيْحَ أَبِي لَيْلَى لَقَدْ بَلَغَ بِهِ الْجَهْدُ ، فَقَالَ النَّابِغَةُ : أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَا وَلِيَتْ قُرَيْشٌ فَعَدَلَتْ ، وَاسْتُرْحِمَتْ فَرَحِمَتْ ، وَعَاهَدَتْ فَوَفَتْ ، وَوَعَدَتْ فَأَنْجَزَتْ ، إِلَّا كُنْتُ أَنَا وَالنَّبِيُّونَ فِرَاطَ الْقَاصِفِينَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَرِجَالٌ مُخْتَلَفٌ فِيهِمْ . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ” نابغہ “ بنو جعدہ کو قحط سالی نے لپیٹ میں لیا ، وہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، وہ مدینہ منورہ میں بیٹھے تھے ، تو انہوں نے یہ اشعار سنائے :
” جب آپ ہمارے والی ( یعنی حکمران ) بنے ، تو آپ نے ہمارے سامنے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ، سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے واقعات بیان کیے تو اس شخص کو راحت نصیب ہوئی جس کے پاس کچھ نہ ہو ، آپ نے لوگوں کے ساتھ ، حق کے مطابق برابری کا سلوک کیا ، تو وہ سیدھے ہو گئے اور تاریک رات صبح میں تبدیل ہو گئی ، ابولیلی آپ کے پاس آیا ہے ، جس کو تاریکیاں گھما رہی ہیں ، جو رات کی تاریکیاں ہیں ، وہ ویرانوں کو عبور کرنے والا مضبوط اونٹ ہے ، تاکہ آپ اس کے ساتھ اچھا سلوک کریں ، راتوں کے تبدیل ہونے اور ظالم زمانے نے اس کو الگ کر دیا ہے ۔ “
تو سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے کہا: اے ابولیلی ! آپ اپنا دھیان کریں ، کیونکہ شعر کہنا زیادہ آسان ہے اور آپ جو پوچھ رہے ہیں وہ ہمارے پاس ہے ، جہاں تک ہمارے مال کی پاکیزگی کا تعلق ہے وہ آل زبیر کے لئے مخصوص ہے ، جہاں تک اس چشموں کا تعلق ہے ، تو بنو اسد نے آپ کے اور تمیم کے حوالے سے ان سے مشغول ہے ، لیکن اللہ تعالیٰ کے مال میں آپ کے دو قسم کے حق ہیں ، ایک حق اس حوالے سے ہے کہ آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی ہوئی ہے اور ایک حق وہ ہے جو باقی اہل اسلام کے ہمراہ آپ اسلام میں شراکت دار ہیں ، پھر انہوں نے ” نابغہ “ کے بارے میں حکم دیا ، انہیں نعمتوں والے گھر میں لے جایا گیا ، انہوں نے ان کے لئے سات اونٹنیاں اور سامان اور گھوڑے دیے اور آٹے اور کھجوروں کی سواریاں دیں ، تو ” نابغہ “ نے جلدی سے وصول کرنا شروع کیا ، تو سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : اے ابولیلی ! تمہارا ستیاناس ہو ! اس طرح تو مشقت زیادہ ہو جائے گی ، تو سیدنا نابغہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے :
” قریش کو جب بھی والی بنایا جائے گا ، وہ عدل سے کام لیں گے اور جب بھی اُن سے رحم مانگا جائے گا ، تو وہ رحم سے کام لیں گے ، اور جب ان سے وعدہ لیا جائے گا تو وہ پورا کریں گے ، تو ایسی صورت میں ، میں اور دیگر انبیاء ہجوم میں اُن کے پیشواء ہوں گے ۔ “

یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں اور اس کے ایسے رجال ہیں ، جن کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16448
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (364/18)»
حدیث نمبر: 16449
وَعَنْ عَائِشَةَ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَخَلَ عَلَيْهَا فَقَالَ : " لَوْلَا أَنْ تَبْطَرَ قُرَيْشٌ لَأَخْبَرْتُهَا بِمَا لَهَا عِنْدَ اللَّهِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اُن کے ہاں تشریف لائے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اگر اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ قریش متکبر ہو جائیں گے ، تو میں اُنہیں بتاتا کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اُن کی کیا قدر و منزلت ہے ؟ “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16449
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (158/6)»
حدیث نمبر: 16450
وَعَنْ عَلِيٍّ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ فِيمَا أَعْلَمُ : " قَدِّمُوا قُرَيْشًا ، وَلَا تَقَدَّمُوهَا ، وَلَوْلَا أَنْ تَبْطَرَ قُرَيْشٌ لَأَخْبَرْتُهَا بِمَا لَهَا عِنْدَ اللَّهِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَدِيُّ بْنُ الْفَضْلِ ؛ وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، وَلَيْسَ هُوَ عَدِيُّ بْنُ الْفَضْلِ الَّذِي فِي ثِقَاتِ ابْنِ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میرے علم کے مطابق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمائی ہے :
” قریش کو مقدم رکھو ! تم اُن سے آگے بڑھنے کی کوشش نہ کرو ، اگر اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ قریش تکبر کا شکار ہو جائیں گے ، تو میں انہیں بتاتا کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں انہیں کیا قدر و منزلت حاصل ہے ۔ “

یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عدی بن فضل ہے اور وہ متروک ہے اور یہ وہ عدی بن فضل نہیں ہیں ، جس کا ذکر ابن حبان کی کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16450
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2784)»
حدیث نمبر: 16451
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : قَدِّمُوا قُرَيْشًا وَلَا تُقَدِّمُوهَا ، وَتَعَلَّمُوا مِنْ قُرَيْشٍ وَلَا تُعَلِّمُوهَا وَلَوْلَا أَنْ تَبْطُرَ قُرَيْشٌ لَأَخْبَرْتُهَا بِمَا لِخِيَارِهَا عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " . ¤ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو مَعْشَرٍ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” قریش کو مقدم رکھو ، تم اُن سے آگے بڑھنے کی کوشش نہ کرو ، قریش سے علم حاصل کرو ، تم انہیں تعلیم دینے کی کوشش نہ کرو ، اگر اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ قریش زیادہ خوش فہمی کا شکار ہو جائیں گے ، تو میں انہیں اس بارے میں بتاتا کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ان کے بہترین لوگوں کے لئے کیا اجر و ثواب ہے ؟ “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابومعشر ہے اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ سیدنا عبداللہ بن حارث بن جزء زبیدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” علم قریش میں ہے اور امانت ” ازد “ ( قبیلے کے لوگوں ) میں ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16451
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 16451
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ الزُّبَيْدِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْعِلْمُ فِي قُرَيْشٍ ، وَالْأَمَانَةُ فِي الْأَزْدِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن حارث بن جزء زبیدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :”علم قریش میں ہے اور امانت داری ازد قبیلے میں ہے“ ۔
اسے امام طبرانی رحمہ اللہ نے المعجم الاوسط اور المعجم الکبیر میں روایت کیا ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16451
حدیث نمبر: 16452
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اطْلُبُوا " - أَوْ قَالَ - : " الْتَمِسُوا الْأَمَانَةَ فِي قُرَيْشٍ ; فَإِنَّ الْأَمِينَ مِنْ قُرَيْشٍ لَهُ فَضْلٌ عَلَى أَمِينِ مَنْ سِوَاهُمْ ، وَإِنَّ قَوِيَّ قُرَيْشٍ لَهُ فَضْلَانِ عَلَى قَوِيِّ مَنْ سِوَاهُمْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قریش میں امانت تلاش کرو ( یہاں عربی کے ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) کیونکہ قریش سے تعلق رکھنے والے امین شخص کو ، ان کے علاوہ دیگر لوگوں سے تعلق رکھنے والے امین پر فضیلت حاصل ہو گی ، اور قریش سے تعلق رکھنے والے طاقتور شخص کو ، اُن کے علاوہ سے تعلق رکھنے والے طاقتور شخص پر دُگنی فضیلت حاصل ہو گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16452
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (6469)»
حدیث نمبر: 16453
وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ لِلْقُرَشِيِّ مِثْلَيْ قُوَّةِ الرَّجُلِ مِنْ غَيْرِ قُرَيْشٍ " . ¤ قِيلَ لِلزُّهْرِيِّ : مَا عَنِيَ بِذَلِكَ ؟ قَالَ : نُبْلُ الرَّأْيِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ وَأَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جبیر بن معطم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قریشی شخص کو قریش کے علاوہ افراد میں سے ، دو افراد جتنی قوت عطا کی گئی ہے ۔ “ زہری سے دریافت کیا گیا : اس سے مراد کیا ہے ؟ انہوں نے بتایا : رائے کا سمجھ داری پر مشتمل ہونا ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ ، امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام أحمد اور امام ابویعلیٰ کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16453
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2785) اخرجه ابو يعلى فى المسند (7400) اخرجه احمد فى المسند (81/4)»
حدیث نمبر: 16454
وَعَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِعُمَرَ : " اجْمَعْ لِي قَوْمَكَ " . فَجَمَعَهُمْ عُمَرُ عِنْدَ بَيْتِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ دَخَلَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أُدْخِلُهُمْ عَلَيْكَ ، أَوْ تَخْرُجُ إِلَيْهِمْ ؟ قَالَ : " بَلْ أَخْرُجُ إِلَيْهِمْ " . قَالَ : فَأَتَاهُمْ فَقَالَ : " هَلْ فِيكُمْ أَحَدٌ مِنْ غَيْرِكُمْ ؟ " . قَالُوا : نَعَمْ . فِينَا حُلَفَاؤُنَا ، وَفِينَا بَنُو إِخْوَانِنَا ، وَفِينَا مَوَالِينَا . فَقَالَ : " حُلَفَاؤُنَا مِنَّا ، وَبَنُو إِخْوَانِنَا مِنَّا ، وَمَوَالِينَا مِنَّا ، وَأَنْتُمْ أَلَا تَسْمَعُونَ : " إِنْ أَوْلِيَاؤُهُ إِلَّا الْمُتَّقُونَ " ; فَإِنْ كُنْتُمْ أُولَئِكَ فَذَاكَ ، وَإِلَّا فَانْظُرُوا ، لَا يَأْتِي النَّاسُ بِالْأَعْمَالِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَتَأْتُونَ بِالْأَثْقَالِ فَنُعْرِضُ عَنْكُمْ " . ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنْ قُرَيْشًا أَهْلُ أَمَانَةٍ ، فَمَنْ بَغَاهُمُ الْعَوَاثِرَ أَكَبَّهُ اللَّهُ لِمَنْخَرَيْهِ " . - قَالَهَا ثَلَاثًا - . رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَاللَّفْظُ لَهُ ، وَأَحْمَدَ بِاخْتِصَارٍ وَقَالَ : " كَبَّهُ اللَّهُ فِي النَّارِ لِوَجْهِهِ " . وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِ الْبَزَّارِ ، وَقَالَ فِي رِوَايَةٍ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَخَلَ عَلَيْهِ عُمَرُ فَقَالَ : قَدْ جَمَعْتُ لَكَ قُومِي ، فَسَمِعَ بِذَلِكَ الْأَنْصَارُ فَقَالُوا : قَدْ نَزَلَ فِي قُرَيْشٍ الْوَحْيُ ، فَجَاءَ الْمُسْتَمِعُ وَالنَّاظِرُ مَا يَقُولُ لَهُمْ ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَامَ بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ . فَذَكَرَ نَحْوَ الْبَزَّارِ بِأَسَانِيدَ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ وَالْبَزَّارِ ، وَإِسْنَادُ الطَّبَرَانِيِّ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا : تم اپنی قوم کے افراد کو میرے لئے اکٹھا کرو ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کے پاس اکٹھا کیا ، پھر وہ گھر کے اندر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میں انہیں آپ کے پاس اندر آنے کے لئے کہوں ؟ یا آپ باہر ان کے پاس تشریف لے جائیں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بلکہ میں اُن کے پاس باہر جاؤں گا ، راوی کہتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اُن کے پاس تشریف لائے ، آپ نے فرمایا : کیا تمہارے درمیان کوئی ایسا فرد ہے ؟ جو تمہارے علاوہ ہو ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! ہمارے درمیان ہمارے حلیف لوگ موجود ہیں اور ہمارے بھتیجے ہیں ( عربی متن میں یہی لفظ ہے ، لیکن شاید یہاں لفظ ” بھانجے “ ہونا چاہیے تھا ) اور ہمارے موالی ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہمارے حلیف ہم میں سے ہیں ، اور ہمارے بھتیجے ( یا ” بھانجے “ ) ہم میں سے ہیں ، اور ہمارے موالی ہم میں سے ہیں ، اور تم لوگ ، کیا تم لوگ سنتے نہیں ہو ؟ بے شک اس کے مددگار صرف پرہیزگار لوگ ہیں ، اگر تم ایسے ہو گے ، تو پھر یہ چیز ملے گی اور اگر ایسا نہ ہو ، تو پھر تم اس بات کا دھیان رکھنا ، ایسا نہ ہو کہ قیامت کے دن لوگ اعمال لے کر آئیں اور تم بوجھ لے کر آؤ ، اور ہم تم سے اعراض کریں ۔ “
راوی بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ بلند کیے اور عرض کی : اے اللہ ! بے شک قریش ، امانت دار لوگ ہیں جو شخص ان کے خلاف سرکشی کرے گا ، اللہ تعالیٰ اُسے نتھنوں کے بل اوندھا کر دے گا ، یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور روایت کے یہ الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں ، امام أحمد نے اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ، وہ یہ الفاظ نقل کرتے ہیں : اللہ تعالیٰ اُسے چہرے کے بل اوندھا کر کے جہنم میں ڈال دے گا ۔ “
امام طبرانی نے امام بزار کی مانند روایت نقل کی ہے ، انہوں نے ایک روایت میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں :
” سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے انہوں نے عرض کی : میں نے آپ کے لئے اپنی قوم کو جمع کر دیا ہے ، جب انصار کو اس بارے میں پتہ چلا تو انہوں نے کہا: قریش کے بارے میں کوئی وحی نازل ہوئی ہو گی ، پھر وہ لوگ بھی آئے ، کوئی سننے والا تھا ، کوئی دیکھنے والا تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے کیا کہتے ہیں ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے ، آپ ان لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے امام بزار کی روایت کی مانند روایت مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، امام أحمد اور امام
بزار کے رجال اور امام طبرانی کی سند کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16454
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2780)»
حدیث نمبر: 16455
وَعَنِ الْعَبَّاسِ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا رَأَيْتُ أَحَدًا بَعْدَ أَبِي بَكْرٍ أَوْفَى مِنْ قُرَيْشٍ الَّذِينَ أَسْلَمُوا بِمَكَّةَ يَوْمَ الْفَتْحِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اللَّهُمَّ فَقِّهْ قُرَيْشًا فِي الدِّينِ وَأَذِقْهُمْ مِنْ يَوْمِي هَذَا إِلَى آخِرِ الدَّهْرِ نَوَالًا ، فَقَدْ أَذَقْتَهُمْ نَكَالًا " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَبِيبٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بعد میں نے ایسا کوئی فرد نہیں دیکھا جو قریش کے اُن افراد سے زیادہ ( عہد کو ) پورا کرتا ہو ، جو لوگ فتح مکہ کے موقع پر ، مکہ میں مسلمان ہوئے تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے اللہ ! قریش کو دین کی سمجھ بوجھ عطا فرما ، اور آج کے بعد سے لے کر زمانہ ختم ہونے تک انہیں اپنے عطیات سے نوازتے رہنا ، جس طرح تو نے پہلے انہیں سزا دی تھی ۔
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن شبیب ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16455
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2786)»
حدیث نمبر: 16456
وَعَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّاتِ مِنْ يَمَنِ الْأَزْدِ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " الْأَمَانَةُ فِي الْأَزْدِ ، وَالْحَيَاءُ فِي قُرَيْشٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابومعاویہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” امانت ” ازد “ قبیلے میں ہے اور حیاء ، قریش میں ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16456
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (394/22)»
حدیث نمبر: 16457
وَعَنِ الْمُسْتَوْرِدِ الْفِهْرِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : وَذَكَرَ قُرَيْشًا فَقَالَ : " إِنَّ فِيهِمْ لَخِصَالًا أَرْبَعَةً : إِنَّهُمْ أَصْلَحُ النَّاسِ عِنْدَ فِتْنَةٍ ، وَأَسْرَعُهُمْ إِفَاقَةً بَعْدَ مُصِيبَةٍ ، وَأَوْشَكُهُمْ كَرَّةً بَعْدَ فَرَّةٍ ، وَأَمْنَعُهُمْ مِنْ ظُلْمِ الْمَلُوكِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ رِشْدِينَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مستورد فہری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : ” ان میں چار خصوصیات ہیں ، فتنہ کے وقت یہ باقی لوگوں سے زیادہ نیک ہوتے ہیں اور مصیبت کے بعد یہ لوگ جلدی سنبھل جاتے ہیں اور یہ پیچھے ہٹنے کے بعد پلٹ کر حملہ کرتے ہیں ، اور حکمرانوں کے ظلم کو سب سے زیادہ روکتے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد أحمد بن محمد بن رشدین کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16457
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 16458
وَعَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ مُوسَى قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ سُلَيْمَانَ بْنِ عَلِيٍّ ، فَدَخَلَ شَيْخٌ مِنْ قُرَيْشٍ ، فَقَالَ سُلَيْمَانُ : انْظُرِ الشَّيْخَ ، فَأَقْعِدْهُ مَقْعَدًا صَالِحًا ; فَإِنَّ لِقُرَيْشٍ حَقًّا . فَقُلْتُ : أَيُّهَا الْأَمِيرُ ، أَلَا أُحَدِّثُكُ بِحَدِيثٍ بَلَغَنِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : قُلْتُ : بَلَى . قُلْتُ : بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ أَهَانَ قُرَيْشًا أَهَانَهُ اللَّهُ " . قَالَ : سُبْحَانَ اللَّهِ ! مَا أَحْسَنَ هَذَا ، مَنْ حَدَّثَكَ هَذَا ؟ قَالَ قُلْتُ : حَدَّثَنِيهِ رَبِيعَةُ بْنُ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ قَالَ : قَالَ أَبِي : يَا بُنَيَّ ، إِنْ وَلَيْتَ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ شَيْئًا فَأَكْرِمْ قُرَيْشًا ; فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ أَهَانَ قُرَيْشًا أَهَانَهُ اللَّهُ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى فِي الْكَبِيرِ بِاخْتِصَارٍ ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، وَرِجَالُهُمْ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
عبیداللہ بن عمر بن موسیٰ بیان کرتے ہیں : میں سلیمان بن علی کے پاس موجود تھا ، اسی دوران قریش سے تعلق رکھنے والا ایک بزرگ اندر آیا ، سلیمان نے کہا: اس بزرگ کو دیکھو ! پھر اس نے انہیں ایک اچھی جگہ پر بٹھایا اور کہا: قریش کا حق ہوتا ہے ، میں نے کہا: اے امیر ! کیا میں آپ کو ایک حدیث نہ سناؤں ؟ جو مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ملی ہے ، اس نے کہا: جی ہاں ! تو میں نے بتایا ، مجھ تک
یہ روایت پہنچی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص قریش کی توہین کرے گا اللہ تعالیٰ اُسے ذلت کا شکار کرے گا ۔ “ راوی کہتے ہیں : اس نے کہا: سبحان اللہ ! یہ کتنی اچھی بات ہے ، تمہیں یہ حدیث کس نے بیان کی ہے ؟ راوی کہتے ہیں : میں نے کہا: یہ حدیث مجھے ربیعہ بن عبدالرحمن نے سعید بن مسیب کے حوالے سے عمرو بن عثمان بن عفان کے حوالے سے نقل کی ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : میرے والد ( یعنی سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ ) نے مجھ سے کہا: اے میرے بیٹے ! اگر تم لوگوں کے معاملات میں سے کسی چیز کے نگران بنو ، تو قریش کا احترام کرنا ، کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص قریش کی توہین کرے گا اللہ تعالیٰ اُسے ذلت کا شکار کرے گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام ابویعلیٰ نے کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16458
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2781) أخرجه احمد فى المسند (460)»
حدیث نمبر: 16459
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ أَهَانَ قُرَيْشًا أَهَانَهُ اللَّهُ قَبْلَ مَوْتِهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمٍ أَبُو هِلَالٍ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص قریش کی توہین کرے گا ، اللہ تعالیٰ اس کے مرنے سے پہلے اُسے ذلت کا شکار کرے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن سلیم ابوہلال ہے جسے ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، ان دونوں روایات کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ،
یہ روایت امام بزار نے بھی نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16459
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2782) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (743)»
حدیث نمبر: 16460
وَعَنْ سَعْدٍ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي وَقَّاصٍ - قَالَ : قِيلَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : إِنَّ فُلَانًا الثَّقَفِيَّ قُتِلَ ، وَقَدْ كَانَ أَسْلَمَ . فَقَالَ : " أَبْعَدَهُ اللَّهُ ; إِنَّهُ كَانَ يُبْغِضُ قُرَيْشًا " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی گئی : فلاں ثقفی شخص قتل ہو گیا ہے ، وہ شخص مسلمان ہو چکا تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ اُسے دور کرے ، کیونکہ وہ قریش سے بغض رکھتا تھا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16460
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2783)»
حدیث نمبر: 16461
وَعَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَفَ يَوْمَ حُنَيْنٍ عَلَى رَجُلٍ مِنْ ثَقِيفٍ مَقْتُولٍ فَقَالَ : " أَبْعَدَكَ اللَّهُ ; فَإِنَّكَ كُنْتَ تُبْغِضُ قُرَيْشًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، غزوہ حنین کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ثقیف قبیلہ سے تعلق رکھنے والے ایک مقتول شخص کے پاس آ کر ٹھہرے اور ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ تمہیں دور کرے ، تم قریش سے بغض رکھتے تھے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن محمد زہری ہے اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16461
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (38/20)»
حدیث نمبر: 16462
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " حُبُّ قُرَيْشٍ إِيمَانٌ ، وَبُغْضُهُمْ كُفْرٌ ، مَنْ أَحَبَّ الْعَرَبَ فَقَدْ أَحَبَّنِي ، وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ فَقَدْ أَبْغَضَنِي " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ الْهَيْثَمُ بْنُ جَمَّازٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قریش سے محبت رکھنا ایمان ہے ، اور ان سے بغض رکھنا کفر ہے ، جو شخص عربوں سے محبت رکھے گا ، وہ مجھ سے محبت رکھے گا اور جو شخص اُن سے بغض رکھے گا ، وہ مجھ سے بغض رکھے گا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ہیثم بن جماز ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16462
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (64)»
حدیث نمبر: 16463
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " بُغْضُ بُغْضُ بَنِي هَاشِمٍ وَالْأَنْصَارِ كُفْرٌ ، وَبُغْضُ الْعَرَبِ نِفَاقٌ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بنو ہاشم اور انصار سے بغض رکھنا کفر ہے اور عربوں سے بغض رکھنا نفاق ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16463
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11312)»
حدیث نمبر: 16464
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَحِبُّوا قُرَيْشًا ; فَإِنَّهُ مَنْ أَحَبَّهُمْ أَحَبَّهُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمُهَيْمِنِ بْنُ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” قریش سے محبت رکھو ! کیونکہ جو شخص ان سے محبت رکھے گا ، اللہ تعالیٰ اس شخص سے محبت رکھے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالمہیمن بن عباس بن سہل ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16464
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5709)»
حدیث نمبر: 16465
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَقُولُ : " يَا عَائِشَةُ ، إِنَّ قَوْمَكِ أَسْرَعُ أُمَّتِي بِي لَحَاقًا " . قَالَتْ : فَلَمَّا جَلَسَ قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَقَدْ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاكَ ، لَقَدْ دَخَلْتُ وَأَنْتَ تَقُولُ كَلَامًا ذَعَرَنِي . قَالَ : " وَمَا هُوَ ؟ " . قُلْتُ : تَزْعُمُ أَنَّ قَوْمِي أَسْرَعُ أُمَتِكَ بِكَ لَحَاقًا ، قَالَ : " نَعَمْ " . قُلْتُ : وَمِمَّ ذَاكَ ؟ قَالَ : " تَسْتَحْلِيُهُمُ الْمَنَايَا ، وَتَنَفَّسُ عَلَيْهِمْ أُمَّتُهُمْ " . قَالَتْ : فَقُلْتُ : كَيْفَ النَّاسُ بَعْدَ ذَلِكَ - أَوْ عِنْدَ ذَلِكَ - ؟ قَالَ : " دُبًّا يَأْكُلُ أَشِدَّاؤُهُ ضِعَافَهُ ، حَتَّى تَقُومَ عَلَيْهِمُ السَّاعَةُ " . قَالَ : وَالدُّبَّا : الْجَنَادِبُ الَّتِي لَمْ تَنْبُتْ أَجْنِحَتُهَا . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے ، آپ نے ارشاد فرمایا : اے عائشہ ! تمہاری قوم میری امت میں سے سب سے پہلے مجھ سے آ ملے گی ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہوئے تو میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر فدا کر دے ، جب آپ اندر تشریف لائے تو آپ نے ایک ایسی بات ارشاد فرمائی ، جس نے مجھے پریشان کر دیا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : وہ کیا بات ہے ؟ میں نے عرض کی : آپ نے یہ فرمایا تھا کہ میری قوم آپ کی امت میں سے ، سب سے پہلے آپ سے جا ملے گی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! میں نے عرض کی : اس کی وجہ کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ کہ موت انہیں ختم کر دے گی اور ان کی امت انہیں مار دے گی ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں نے عرض کی : اس کے بعد لوگوں کا کیا بنے گا ؟ ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) اس وقت لوگوں کا کیا بنے گا ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس طرح کیڑے مکوڑے ہوتے ہیں ، جو طاقتور ہوں ، وہ کمزوروں کو کھا جاتے ہیں ، یہاں تک کہ اُن لوگوں پر قیامت قائم ہو گی ۔ “ راوی کہتے ہیں : لفظ ” دباء “ کا مطلب وہ کیڑے ہوتے ہیں ، جن کے پر نہیں اُگتے ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16465
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (81/6)»
حدیث نمبر: 16466
وَفِي رِوَايَةٍ : " يَا عَائِشَةُ ، أَوَّلُ مَنْ يَهْلِكُ مِنَ النَّاسِ قَوْمُكِ " . قَالَ : قُلْتُ : - جَعَلَنِي اللَّهُ فَدَاكَ - أَبَنِي تَيْمٍ ؟ قَالَ : " لَا ، وَلَكِنَّ هَذَا الْحَيَّ مِنْ قُرَيْشٍ تَسْتَحْلِيُهُمُ الْمَنَايَا ، وَتَنَفَّسُ النَّاسُ عَنْهُمْ أَوَّلُ النَّاسِ هَلَاكًا " . قُلْتُ : فَمَا بَقَاءُ النَّاسِ بَعْدَهُمْ ؟ قَالَ : " هُمْ صُلْبُ النَّاسِ ، إِذَا هَلَكُوا هَلَكَ النَّاسُ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ بِبَعْضِهِ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِبَعْضِهِ أَيْضًا ، وَإِسْنَادُ الرِّوَايَةِ الْأُولَى عِنْدَ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَفِي بَقِيَّةِ الرِّوَايَاتِ مَقَالٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : اے عائشہ ! لوگوں میں سب سے پہلے تمہاری قوم ہلاکت کا شکار ہو گی ، میں نے عرض کی : اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر فدا کرے ، کیا بنو تیم ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں ! بلکہ قریش کا یہ قبیلہ ، موت انہیں ختم کر دے گی اور لوگ انہیں مار دیں گے ، میں نے عرض کی : اس کے بعد لوگوں کی بقاء کیسے ہو گی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ لوگ ( یعنی قریش ، دوسرے ) لوگوں کی پشت ہیں ، جب یہ ہلاکت کا شکار ہو جائیں گے تو باقی لوگ بھی ہلاکت کا شکار ہو جائیں گے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام بزار نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ، امام طبرانی نے معجم اوسط میں بھی اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے اور امام أحمد کی نقل کردہ پہلی روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں اور بقیہ روایات کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16466
درجۂ حدیث محدثین: إسنادُ أحمد رجال الصحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2789) اخرجه احمد فى المسند (74/6)»
حدیث نمبر: 16467
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَسْرَعُ قَبَائِلِ الْعَرَبِ فَنَاءً قُرَيْشٌ ، يُوشِكُ أَنْ تَمُرَّ الْمَرْأَةُ بِالْنَعْلِ فَتَقُولُ : هَذَا نَعْلٌ قُرَشِيٌّ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ وَقَالَ : " هَذِهِ " بَدَلُ " هَذَا " . وَرِجَالُ أَحْمَدَ ، وَأَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” عربوں کے قبائل میں سب سے زیادہ جلدی قریش فنا ہوں گے ، عنقریب ایسا وقت آئے گا کہ کوئی عورت کسی جوتے کے پاس سے گزرے گی تو یہ کہے گی : یہ کسی قریشی کا جوتا ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، انہوں نے ایک لفظ مختلف نقل کیا ہے ، امام أحمد کے رجال اور امام ابویعلیٰ کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16467
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2788) اخرجه أبو يعلى فى المسند (6205) اخرجه احمد فى المسند (336/2)»
حدیث نمبر: 16468
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا يَزَالُ الدِّينُ وَاصِبًا مَا بَقِيَ مِنْ قُرَيْشٍ عِشْرُونَ رَجُلًا " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي حَيَّةَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” یہ دین مسلسل مضبوط رہے گا ، جب تک قریش کے بیس افراد ( بھی ) باقی رہیں گے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن ابوحیہ ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16468
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2791)»