مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ . باب: صحابہ کرام کی ایک جماعت کے سن وفات اور ان کے سن پیدائش کا تذکرہ اور ان میں آخر میں ، وفات پانے والے حضرات کا تذکرہ
حدیث نمبر: 16376
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " الْمُهَاجِرُونَ ، وَالْأَنْصَارُ ، وَالطُّلَقَاءُ مِنْ قُرَيْشٍ ، وَالْعُتَقَاءُ مِنْ ثَقِيفٍ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ وَفِيهِ خِلَافٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” مہاجرین اور انصار اور قریش سے تعلق رکھنے والے ” طلقاء “ اور ثقیف سے تعلق رکھنے والے ” عتقاء “ دنیا اور آخرت میں ایک دوسرے کے دوست ہیں ( یا ساتھی ہیں ) ۔ “
یہ روایت امام طبرانی اور امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن بہدلہ ہے اس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ، بزار کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔