حدیث نمبر: 1624
وَعَنْ بَيْجَرَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ : أَتَيْنَا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَسْلَمْنَا وَسَأَلْنَاهُ أَنْ يَضَعَ عَنَّا الْعَتَمَةَ . قَالَ : " صَلَاةُ الْعَتَمَةِ ؟ " قُلْنَا : إِنَّا نُشْغَلُ بِحَلْبِ إِبِلِنَا . قَالَ : " إِنَّكُمْ - إِنْ شَاءَ اللَّهُ - سَتَحْلِبُونَ وَتُصَلُّونَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ طَرِيقِ الرَّحَّالِ بْنِ الْمُنْذِرِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ بَيْجَرَةَ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَ الرَّحَّالَ وَلَا أَبَاهُ . وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا بچرہ بن عامر بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، ہم نے اسلام قبول کیا ، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ درخواست کی : کہ آپ ہمیں عشاء کی نماز معاف کر دیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا ہے : عشاء کی نماز کیوں ؟ ہم نے عرض کی : ہم اس وقت اپنے اونٹوں کا دودھ دوہنے میں مصروف ہوتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر اللہ نے چاہا ، تو تم لوگ دودھ بھی دوہ لو گے اور نماز بھی پڑھ لو گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں رحال بن منذر کے حوالے سے ، اُس کے والد کے حوالے سے ، اس کے دادا سیدنا بچرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے ، میں نے کسی کو رحال ، یا اُس کے والد کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1624
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «المعجم الكبير للطبراني باب الباء ، باب من اسمه بشير بيحرة بن عامر ، 1228 ، معرفة الصحابة لأبي نعيم الأصبهاني باب الباء ، من اسمه بسر بيحرة بن عامر 1196»