حدیث نمبر: 1623
وَعَنْ وَاصِلٍ قَالَ : أَدْرَكْتُ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُقَالُ لَهُ : نَاجِيَةُ الطَّفَاوِيُّ وَهُوَ يَكْتُبُ الْمَصَاحِفَ ، فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ : جِئْتُ أَسْأَلُكَ عَنِ الصَّلَاةِ ، فَقَالَ : إِنَّكِ لِفَاجِرَةٌ ، أَوْ لَقَدْ جِئْتِ مِنْ عِنْدِ رَجُلٍ فَاجِرٍ . قَالَتْ : بَلْ جِئْتِ مِنْ عِنْدِ رَجُلٍ فَاجِرٍ ، زَوَّجَنِي أَهْلِي وَأَنَا جَارِيَةٌ بِكْرٌ ، تَزَوَّجَنِي رَجُلٌ مَنْ بَنِي تَمِيمٍ كَانَ يَأْتِي عَلَيْهِ أَيَّامٌ لَا يَمَسُّ الْمَاءَ وَلَا يُصَلِّي ، وَيَجِيءُ بَعْدَ الثَّلَاثِ فَيَتَوَضَّأُ مِنَ الْمَاءِ ، ثُمَّ يَنْقُرُ نَقْرَتَيْنِ وَيَقُولُ : ( حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ ) ، فَقَالَ لَهَا نَاجِيَةُ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَمْسَ صَلَوَاتٍ : الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعَشَاءَ وَالصُّبْحَ ، فَأَتَتْ أَهْلَهَا فَقَالَتْ : أَنْقِذُونِي مِنْ زَوْجِي ، فَإِنَّهُ رَجُلٌ فَاجِرٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْبَرَاءُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْغَنَوِيُّ ، ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ ، وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ : هُوَ عِنْدِي أَقْرَبُ إِلَى الصِّدْقِ مِنْهُ إِلَى الضَّعْفِ . قُلْتُ : الَّذِينَ ضَعَّفُوهُ كَلَامُهُمْ فِيهِ لِينٌ . ¤
محمد محی الدین

واصل بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک صاحب کو پایا ہے ، جن کا نام سیدنا ناجیہ طفاوی رضی اللہ عنہ تھا ، وہ قرآن مجید کی کتابت کرتے تھے ، ایک عورت اُن کے پاس آئی اور بولی: میں آپ سے نماز کے بارے میں دریافت کرنے کے لئے آئی ہوں ، تو انہوں نے فرمایا : تم ایک گنہگار عورت ہو ، یا تم ایک گنہگار شخص کے پاس سے آئی ہو ، اُس عورت نے عرض کی : جی نہیں ! بلکہ میں گنہگار شخص کے پاس سے آئی ہوں ، میرے گھر والوں نے میری شادی کر دی تھی ، میں ان دنوں کنواری لڑکی تھی ، بنو تمیم سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے میرے ساتھ شادی کی تھی ، جس پر کئی دن اس طرح گزر جاتے ہیں کہ وہ اس دوران پانی استعمال نہیں کرتا اور نماز ادا نہیں کرتا ، پھر تین دن گزرنے کے بعد وہ آتا ہے ، اور پانی کے ذریعے وضو کرتا ہے ، پھر دو مرتبہ ٹھونگے مارتا ہے ، اور یہ کہتا ہے : ( اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ) ” نمازوں کی حفاظت کرو ، اور درمیانی نماز کی ، اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عاجزی کے ساتھ کھڑے رہو “ ۔ تو سیدنا ناجیہ طفاوی رضی اللہ عنہ نے اس عورت سے فرمایا : اللہ کے رسول نے پانچ نمازیں ادا کی ہیں ، ظہر ، عصر ، مغرب ، عشاء اور صبح ( یعنی فجر کی نماز ) وہ عورت اپنے گھر والوں کے پاس گئی ، اور بولی: تم لوگ مجھے میرے شوہر سے الگ کروا دو ! کیونکہ وہ ایک گنہگار شخص ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی براء بن عبداللہ عننوی ہے ، جسے امام أحمد اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ، ابن عدی کہتے ہیں : میرے نزدیک وہ شخص ضعیف ہونے کے قریب ہونے کی بہ نسبت سچا ہونے کے زیادہ قریب ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : جن حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، اس راوی کے بارے میں اُن کا کلام کمزور ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1623
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف