❮
❯
حدیث نمبر: 1625
وَعَنْ أَبِي الْبَخْتِرِيِّ قَالَ : أَصَابَ سَلْمَانُ جَارِيَةً ، فَقَالَ لَهَا بِالْفَارِسِيَّةِ : صَلِّي . قَالَتْ : لَا . قَالَ : اسْجُدِي وَاحِدَةً . قَالَتْ : لَا . قِيلَ : يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ، وَمَا تُغْنِي عَنْهَا سَجْدَةٌ ؟ قَالَ : إِنَّهَا لَوْ صَلَّتْ صَلَّتْ ، وَلَيْسَ مِنْ لَهُ سَهْمٌ فِي الْإِسْلَامِ كَمَنْ لَا سَهْمَ لَهُ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ ضِرَارُ بْنُ صُرَدٍ أَبُو نُعَيْمٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا .
محمد محی الدین

ابوبختری بیان کرتے ہیں : سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کو ایک کنیز ملی ، اور پھر فارسی میں اُس عورت سے کہا: تم نماز پڑھ لو ! اُس نے جواب دیا : جی نہیں ! سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ نے کہا: تم ایک سجدہ کر لو ! اس نے جواب دیا : جی نہیں ! سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے کہا: گیا : اے ابوعبداللہ ! ایک سجدہ اس عورت کے کس کام آئے گا ؟ تو سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر یہ نماز پڑھ لیتی ، تو پڑھ لیتی اُس شخص کا جس کا اسلام میں کوئی حصہ ہو ، وہ اُس شخص کی مانند نہیں ہے ، جس کا کوئی حصہ نہ ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ضرار بن صرد ابونعیم ہے ، اور وہ انتہائی ” ضعیف “ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1625
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً