مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي النَّجَاشِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - باب: نجاشی کے بارے میں ، جو منقول ہے
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : لَمَّا مَاتَ النَّجَاشِيُّ قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اسْتَغْفِرُوا لِأَخِيكُمْ " . فَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ : يَأْمُرُنَا أَنْ نَسْتَغْفِرَ لَهُ وَقَدْ مَاتَ بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ ، فَنَزَلَتْ : " وَإِنَّ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَمَنْ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِمْ " الْآيَةَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِإِسْنَادَيْنِ ، أَحَدُهُمَا قَالَ فِيهِ : " صَلُّوا عَلَيْهِ " . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَتْ فِي الْجَنَائِزِ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْغَائِبِ ، وَرِجَالُهَا ثِقَاتٌ ، وَفِي هَذِهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي الْجَنَائِزِ . وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ . ¤سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نجاشی کا انتقال ہوا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اپنے بھائی کے لئے دعائے مغفرت کرو ! بعض لوگوں نے کہا: یہ ہمیں اس کے لئے دعائے مغفرت کرنے کا کہہ رہے ہیں حالانکہ وہ حبشہ کی سرزمین پر فوت ہوا ہے ، تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی : ” اہل کتاب میں سے کچھ لوگ وہ ہیں ، جو اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور اس چیز پر ایمان لاتے ہیں ، جو تمہاری طرف نازل کی گئی اور اس پر بھی جو ان کی طرف نازل کی گئی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، ان دو اسناد میں سے ایک میں انہوں نے یہ کہا: ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اس کے لئے دعائے رحمت کرو ۔
اس سے پہلے کتاب الجنائز میں ، غائبہ نماز سے متعلق باب میں ، روایت گزر چکی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
اس سے پہلے کتاب الجنائز میں کچھ احادیث گزر چکی ہیں ، باقی اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے ۔