حدیث نمبر: 16189
عَنْ صَفْوَانَ بْنِ الْمُعَطِّلِ قَالَ : خَرَجْنَا حُجَّاجًا فَلَمَّا كُنَّا بِالْعَرْجِ إِذَا نَحْنُ بِحَيَّةٍ تَضْطَرِبُ ، فَلَمْ تَلْبَثْ أَنْ مَاتَتْ ; فَأَخْرَجَ رَجُلٌ لَهَا خِرْقَةً مِنْ عَيْبَتِهِ ، فَلَفَّهَا فِيهَا وَدَفَنَهَا ، وَخَدَّ لَهَا فِي الْأَرْضِ ، فَلَمَّا أَتَيْنَا مَكَّةَ فَإِنَّا بِالْمَسْجِدَ الْحَرَامِ ، إِذْ وَقَفَ عَلَيْنَا شَخْصٌ ، فَقَالَ : أَيُّكُمْ عَمْرُو بْنُ جَابِرٍ ؟ فَقُلْنَا : مَا نَعْرِفُهُ . فَقَالَ لَنَا : أَيُّكُمْ صَاحِبُ الْجِنَانِ ؟ قُلْنَا : هَذَا . قَالُوا : جَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا ، أَمَا إِنَّهُ قَدْ كَانَ مِنْ آخِرِ التِّسْعَةِ مَوْتًا الَّذِينَ أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسْتَمِعُونَ الْقُرْآنَ . ¤ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ نَبْهَانَ الْعَبْدِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ حج کرنے کے لئے روانہ ہوئے ، جب ہم ” عرج “ کے مقام پر پہنچے ، تو وہاں ایک سانپ چلتا ہوا نظر آیا ، تھوڑی ہی دیر میں وہ مر گیا ، پھر ایک شخص نکلا ، جس نے اپنے تھیلے میں سے لباس نکالا ، اس نے اسے لپیٹا اور اسے دفن کر دیا اور اس کے لئے زمین کو چیرا ، جب ہم مکہ آئے تو میں مسجد حرام میں موجود تھا ، اسی دوران ایک شخص ہمارے پاس آ کے ٹھہرا ، اس نے دریافت کیا : تم میں سے عمرو بن جابر کون ہے ؟ ہم نے کہا: ہم تو اس سے واقف نہیں ہیں ، اس نے ہم سے دریافت کیا : تم میں سے کون جنّ ہے ؟ ہم نے کہا: یہ ہے ، تو لوگوں نے کہا: اللہ تعالیٰ تمہیں جزائے خیر دے ، وہ ان نو افراد میں سے آخری فرد تھا ، جس کا سب سے آخر میں انتقال ہوا ، یہ وہ لوگ تھے ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے تھے اور انہوں نے غور سے قرآن سنا تھا ۔
یہ روایت عبداللہ بن أحمد اور طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمر بن نبہان عبدی ہے اور وہ متروک ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16189
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7345)»