حدیث نمبر: 16179
عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ : خَرَجَ وَرَقَةُ بْنُ نَوْفَلٍ وَزَيْدُ بْنُ عَمْرٍو يَطْلُبَانِ الدِّينَ ، حَتَّى مَرَّا بِالشَّامِ ، فَأَمَّا وَرَقَةُ فَتَنَصَّرَ ، وَأَمَّا زَيْدٌ فَقِيلَ لَهُ : إِنَّ الَّذِي تَطْلُبُ أَمَامَكَ ، فَانْطَلَقَ حَتَّى أَتَى الْمَوْصِلَ ، فَإِذَا هُوَ بِرَاهِبٍ ، فَقَالَ : مِنْ أَيْنَ أَقْبَلَ صَاحِبُ الرَّاحِلَةِ ؟ قَالَ : مِنْ بَيْتِ إِبْرَاهِيمَ قَالَ : مَا تَطْلُبُ ؟ قَالَ : الدِّينَ ، فَعَرَضَ عَلَيْهِ النَّصْرَانِيَّةَ ، فَأَبَى أَنْ يَقْبَلَ ، وَقَالَ : لَا حَاجَةَ لِي فِيهَا . قَالَ : أَمَا إِنَّ الَّذِي تَطْلُبُ سَيَظْهَرُ بِأَرْضِكَ ، فَانْطَلَقَ وَهُوَ يَقُولُ : ¤ لَبَّيْكَ حَقًّا حَقًّا تَعَبُّدًا وَرِقًّا الْبِرَّ أَبْغِي لَا الْحَالْ ¤ وَهَلْ مُهَاجِرٌ كَمَا قَالْ عُذْتُ بِمَا عَاذَ بِهِ إِبْرَاهِيمُ [ وَهُوَ قَائِمٌ ، وَأَنْفَي لَكَ اللَّهُمَّ عَانَ ، رَاغِمْ بِهَا تَجَشَّمَنِي ، فَإِنِّي جَاشِمٌ ] . ¤ ثُمَّ يَنْحَنِي فَيَسْجُدُ لِلْكَعْبَةِ . ¤ قَالَ : فَمَرَّ زَيْدُ بْنُ عَمْرٍو بِالنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَزَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ وَهُمَا يَأْكُلَانِ مِنْ سُفْرَةٍ [ لَهُمَا ] ، فَدَعَيَاهُ ، فَقَالَ : يَا ابْنَ أَخِي ، لَا آكُلُ مَا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ قَالَ : فَمَا رُئِيَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْكُلُ مَا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ مِنْ يَوْمِهِ ذَلِكَ حَتَّى بُعِثَ . ¤ قَالَ : وَجَاءَ سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ زَيْدًا كَانَ كَمَا رَأَيْتَ أَوْ كَمَا بَلَغَكَ ، فَاسْتَغْفِرْ لَهُ . قَالَ : " نَعَمْ ، فَاسْتَغْفِرُوا لَهُ ; فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أُمَّةً وَحْدَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ عَنْهُ ، وَفِيهِ الْمَسْعُودِيُّ وَقَدِ اخْتَلَطَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ورقہ بن نوفل اور زید بن عمرو ، دین کی تلاش میں نکلے ، ان دونوں کا گزر شام سے ہوا ، وہاں ورقہ نے عیسائیت اختیار کر لی ، زید سے یہ کہا: گیا : آپ جو چیز تلاش کر رہے ہیں ، وہ آگے ہے ، وہ آگے روانہ ہو گئے ، یہاں تک کہ وہ موصل پہنچ گئے ، وہاں ایک راہب موجود تھا ، اس نے دریافت کیا : یہ سواری والا شخص کہاں سے آیا ہے ؟ زید نے بتایا : سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے بنائے ہوئے گھر کے پاس سے ، اس راہب نے دریافت کیا : تم کیا تلاش کر رہے ہو ؟ زید نے جواب دیا : دین ، راہب نے انہیں عیسائیت کی پیش کش کی ، تو زید نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا اور یہ کہا: مجھے اس میں دلچسپی نہیں ہے ، راہب نے کہا: تم جو تلاش کر رہے ہو ، وہ عنقریب تمہاری سرزمین پر ظاہر ہو گا ، پھر وہ یہ کہتے ہوئے روانہ ہو گئے : ” میں حاضر ہوں ، حق کے لئے ، حق کے لئے ، عبادت گزاری کے لئے اور نرمی کے لئے ، میں نیکی تلاش کر رہا ہوں جو ابھی نہیں ملی ہے ، کیا کوئی مہاجر ہے ، جس طرح اس نے کہا: ہے ، میں اس ذات کی پناہ مانگتا ہوں ، جس کی پناہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے مانگی تھی ، جبکہ وہ قیام کی حالت میں تھے ۔ “
پھر وہ جھک گئے اور انہوں نے خانہ کعبہ کے سامنے سجدہ کیا ۔
راوی بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ زید بن عمرو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرے ، اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ اپنے تھیلے میں سے کھانا نکال کر کھا رہے تھے ، ان دونوں نے اسے دعوت دی ، انہوں نے کہا: اے میرے بھتیجے ! میں اس جانور کو نہیں کھاتا ، جسے بت کے پاس ذبح کیا گیا ہو ، راوی کہتے ہیں : اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی کوئی ایسی چیز کھاتے ہوئے نہیں دیکھا گیا ، جسے بت کے پاس ذبح کیا گیا ہو ، یہاں تک کہ آپ کو مبعوث کر دیا گیا ، راوی بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ( میرے مرحوم والد ) زید ویسے ہی تھے ، جیسا کہ آپ نے انہیں خود ملاحظہ کیا ہے ، یا جس طرح آپ کو ان کے بارے میں اطلاعات ملی ہیں ، تو آپ ان کے لئے دعائے مغفرت کیجئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ٹھیک ہے ، تم لوگ بھی اس کے لئے دعائے مغفرت کرو ! کیونکہ قیامت کے دن اُسے ایک امت کے طور پر زندہ کیا جائے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام بزار نے اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسعودی ہے جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16179
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (350)»