مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ باب: زید بن عمرو بن نفیل کے بارے میں ، جو منقول ہے
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمَكَّةَ هُوَ وَزَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ ، فَمَرَّ بِهِمَا زَيْدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ ، فَدَعَوَاهُ إِلَى سُفْرَةٍ لَهُمَا ، فَقَالَ : يَا ابْنَ أَخِي ، إِنِّي لَا آكُلُ مَا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ . ¤ قَالَ : فَمَا رُئِيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعْدَ ذَلِكَ يَأْكُلُ شَيْئًا مِمَّا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ . ¤ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أَبِي كَانَ كَمَا قَدْ رَأَيْتَ وَبَلَغَكَ ، وَلَوْ أَدْرَكَكَ آمَنَ بِكَ وَاتَّبَعَكَ ; فَاسْتَغْفِرْ لَهُ ، قَالَ : " نَعَمْ ، فَاسْتَغْفِرُوا لَهُ ; فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أُمَّةً وَحْدَهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ الْمَسْعُودِيُّ وَقَدِ اخْتَلَطَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ مکہ میں موجود تھے ، اسی دوران زید بن عمرو بن نفیل ، ان کے پاس سے گزرے ان دونوں نے انہیں کھانے کی دعوت دی ، تو زید نے کہا: اے میرے بھتیجے ! میں اس جانور کو نہیں کھاتا ، جسے بت کے پاس ذبح کیا گیا ہو ، راوی کہتے ہیں : اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی ایسی چیز کھاتے ہوئے نہیں دیکھا گیا ، جسے بت کے پاس ذبح کیا گیا ہو ، راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ میرے والد ( یعنی زید بن عمرو بن نفیل ) ویسے تھے جیسا کہ آپ نے ملاحظہ کیا ، اور جیسا کہ آپ کو اس بارے میں اطلاع ملی ، اگر وہ آپ کا زمانہ پا لیتے ، تو آپ پر ایمان لے آتے اور آپ کی پیروی کرتے ، تو آپ اُن کے لئے دعائے مغفرت کیجئے ! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ٹھیک ہے ، تم لوگ اس کے لئے دعائے مغفرت کرو ! کیونکہ اُسے قیامت کے دن ایک اُمت کے طور پر اٹھایا جائے گا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسعودی ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔