حدیث نمبر: 16160
عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ : أَنَّ أَبَا بَكْرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - لَمَّا بَعَثَ يَزِيدَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ إِلَى الشَّامِ خَرَجَ يَمْشِي مَعَهُ ، فَقَالَ لَهُ يَزِيدُ : إِمَّا أَنْ تَرْكَبَ وَ إِمَّا أَنْزِلُ ؟ قَالَ : مَا أَنَا بِرَاكِبٍ وَلَا أَنْتَ بِنَازِلٍ ; إِنِّي أَحْتَسِبُ خُطَايَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ ، وَرِجَالُهُ إِلَى يَحْيَى ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

یحیی بن سعید انصاری بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ، جب سیدنا یزید بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ کو شام بھیجا ، تو وہ خود ان کے ساتھ پیدل چلتے ہوئے گئے ، سیدنا یزید رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: یا تو آپ سوار ہو جائیں ، یا میں سواری سے نیچے اتر آتا ہوں ، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : نہ تو میں سوار ہوؤں گا ، اور نہ تم نیچے اترو گے ، میں ان قدموں کے حوالے سے ثواب کی امید رکھتا ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے اور یحیی تک اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16160
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (231/22)»