حدیث نمبر: 16117
عَنِ الْوَاقِدَيِّ قَالَ : عِيَاضُ بْنُ تَمِيمِ بْنِ زُهَيْرِ بْنِ أَبِي شَدَّادِ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ هِلَالِ بْنِ ضَبَّةَ بْنِ الْحَارِثِ [ بْنِ فِهْرٍ ] . ¤ أَسْلَمَ عِيَاضٌ قَدِيمًا قَبْلَ الْحُدَيْبِيَةِ ، وَشَهِدَ الْحُدَيْبِيَةَ ، وَكَانَ بِالشَّامِ مَعَ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ ، فَلَمَّا حَضَرَتْ أَبَا عُبَيْدَةَ الْوَفَاةُ وَلَّى أَبُو عُبَيْدَةَ عِيَاضَ بْنَ تَمِيمٍ عَمَلَهُ الَّذِي كَانَ عَلَيْهِ ، فَأَقَرَّهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَلَيْهِ حَتَّى مَاتَ . ¤ وَكَانَ عِيَاضٌ رَجُلًا صَالِحًا سَمْحًا ، مَاتَ يَوْمَ مَاتَ وَمَا لَهُ مَالٌ ، وَلَا عَلَيْهِ دَيْنٌ لِأَحَدٍ ، تُوُفِّيَ بِالشَّامِ سَنَةَ عِشْرِينَ وَهُوَ ابْنُ سِتِّينَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ إِلَى الْوَاقِدِيِّ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین

واقدی بیان کرتے ہیں : یہ سیدنا عیاض رضی اللہ عنہ بن تمیم بن زہیر بن ابوشداد بن ربیعہ بن ہلال بن ضباء بن حارث بن فہر ہیں ۔ سیدنا عیاض رضی اللہ عنہ نے حدیبیہ سے پہلے ہی اسلام قبول کر لیا تھا ، وہ غزوہ حدیبیہ میں شریک ہوئے ، یہ شام میں سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہے تھے ، جب سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے انتقال کا وقت قریب آیا ، تو سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے ، جو ان کی ذمہ داریاں تھیں ، ان کے حوالے سے سیدنا عیاض بن تمیم رضی اللہ عنہ کو اپنا جانشین مقرر کیا ، تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے انہیں اس عہدے پر برقرار رکھا تھا ، یہاں تک کہ اُن کا انتقال ہو گیا ۔ سیدنا عیاض رضی اللہ عنہ ایک نیک اور خوش اخلاق بزرگ تھے ، جب ان کا انتقال ہوا ، تو ان کے پاس کوئی مال نہیں تھا اور نہ ہی ان پر کسی کا کوئی قرض تھا ، اُن کا انتقال 60 سال کی عمر میں شام میں سن 20 ہجری میں ہوا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے واقدی تک اس کی سند حسن ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16117
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ إلی الواقدی حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (366/17)»