حدیث نمبر: 1610
وَعَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - أَرَاهُ ذَكَرَهُ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْعَبْدَ الْمَمْلُوكَ لِيُحَاسَبُ بِصَلَاتِهِ ، فَإِذَا نَقَصَ مِنْهَا قِيلَ لَهُ : لِمَ نَقَصْتَ مِنْهَا ؟ فَيَقُولُ : يَا رَبِّ سَلَّطْتَ عَلَيَّ مَلِيكًا شَغَلَنِي عَنْ صَلَاتِي ، فَيَقُولُ : قَدْ رَأَيْتُكَ تَسْرِقُ مِنْ مَالِهِ لِنَفْسِكَ ، فَهَلَّا سَرَقْتَ مِنْ عَمَلِكَ لِنَفْسِكَ ؟ فَيَجِبُ لِلَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - عَلَيْهِ الْحُجَّةُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ ، وَثَّقَهُ عُثْمَانُ وَأَحْمَدُ وَجَمَاعَةٌ ، وَاخْتُلِفَ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ . ¤
محمد محی الدین

حسن بصری نے ، سیدنا ابوہریرہ کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے : ( راوی بیان کرتے ہیں : ) میرا خیال ہے انہوں نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ذکر کیا ہے ( یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ) ” غلام بندے سے ، اُس کی نماز کے بارے میں حساب لیا جائے گا ، جب اس میں کوئی کمی ہو گی ، تو اس سے کہا: جائے گا : تم نے اس میں کیوں کمی کی ؟ تو وہ عرض کرے گا : اے میرے پروردگار ! ! تو نے مجھ پر ایک ایسا فرض مسلط کر دیا تھا ، جس نے مجھے نماز سے غافل کر دیا تھا ، تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا : میں نے تمہیں دیکھا تھا کہ تم اس کے ( یعنی اپنے مالک کے ) مال میں سے ، اپنی ذات کے لئے چوری کر لیتے تھے ، تو کیا تم اپنے عمل میں سے ، اپنی ذات کے لئے چوری نہیں کر سکتے تھے ؟ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ) تو اس کے خلاف اللہ تعالیٰ کی حجت لازم ہو جائے گی “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مبارک بن فضالہ ہے ، جسے عثمان ، امام أحمد اور ایک جماعت نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1610
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن