مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابٌ فَرْضُ الصَّلَاةِ . باب: نماز کی فرضیت کا بیان
حدیث نمبر: 1611
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ ذَكَرَ الصَّلَاةَ يَوْمًا فَقَالَ : " مَنْ حَافَظَ عَلَيْهَا كَانَتْ لَهُ نُورًا وَبُرْهَانًا وَنَجَاةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَمَنْ لَمْ يُحَافِظْ عَلَيْهَا لَمْ يَكُنْ لَهُ نُورٌ وَلَا بُرْهَانٌ وَلَا نَجَاةٌ ، وَكَانَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَعَ فِرْعَوْنِ وَهَامَانَ وَأُبَيِّ بْنِ خَلَفٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : ” جو شخص اس کی حفاظت کرے گا ، یہ اس کے لئے قیامت کے دن نور ، برہان اور نجات کا باعث ہو گی ، اور جو شخص اس کی حفاظت نہیں کرے گا ، تو اُس کے لئے نہ کوئی نور ہو گا ، اور نہ برہان ہو گی ، اور نہ نجات ہو گی ، اور ایسا شخص قیامت کے دن فرعون ، ہامان اور اُبی بن خلف کے ساتھ ہو گا“ ۔
یہ روایت امام أحمد نے ، اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور امام أحمد کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔