مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابٌ فَرْضُ الصَّلَاةِ . باب: نماز کی فرضیت کا بیان
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَوَّلُ مَا يُسْأَلُ عَنْهُ الْعَبْدُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُنْظَرُ فِي صَلَاتِهِ ، فَإِنْ صَلَحَتْ فَقَدْ أَفْلَحَ ، وَإِنْ فَسَدَتْ فَقَدْ خَابَ وَخَسِرَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ خُلَيْدُ بْنُ دَعْلَجٍ ، ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَالنَّسَائِيُّ وَالدَّارَقُطْنِيُّ ، وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ : عَامَّةُ حَدِيثِهِ تَابَعَهُ عَلَيْهِ غَيْرُهُ . ¤سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” قیامت کے دن ، بندے سے سب سے پہلے جس چیز کے بارے میں سوال کیا جائے گا ، وہ یہ ہے کہ اُس کی نماز کا جائزہ لیا جائے گا ، اگر وہ ٹھیک ہوئی ، تو وہ بندہ کامیاب ہو جائے گا ، اور اگر وہ خراب ہوئی ، تو وہ بندہ رُسوائی اور خسارے کا شکار ہو جائے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی خلید بن علج ہے ، جسے امام أحمد ، امام نسائی رحمہ اللہ اور امام دارقطنی رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے ، اور امام ابن عدی رحمہ اللہ کہتے ہیں : اس کی نقل کردہ زیادہ تر احادیث کی دیگر راویوں نے متابعت کی ہے ۔