حدیث نمبر: 1608
وَعَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَوَّلُ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الصَّلَاةُ ، فَإِنْ صَلَحَتْ صَلَحَ لَهُ سَائِرُ عَمَلِهِ ، وَإِنْ فَسَدَتْ فَسَدَ سَائِرُ عَمَلِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْقَاسِمُ بْنُ عُثْمَانَ قَالَ الْبُخَارِيُّ : لَهُ أَحَادِيثُ لَا يُتَابَعُ عَلَيْهَا . وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ وَقَالَ : رُبَّمَا أَخْطَأَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” قیامت کے دن ، بندے سے سب سے پہلے نماز کے بارے میں حساب لیا جائے گا ، اگر وہ ٹھیک ہو گی ، تو اس بندے کے دیگر تمام اعمال بھی ٹھیک ہوں گے ، اور اگر وہ خراب ہو گی ، تو اُس کے دیگر تمام اعمال بھی خراب ہوں گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی قاسم بن عثمان ہے ، امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : اس کے حوالے سے ایسی احادیث منقول ہیں ، جن کی متابعت نہیں کی گئی ہے ، ابن حبان نے اس راوی کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ، اور یہ بات بیان کی ہے : یہ بعض اوقات غلطی کر جاتا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1608
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف