مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي ضَمْرَةَ بْنِ ثَعْلَبَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - باب: حضرت ضمرہ بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ ثَعْلَبَةَ : أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَلَيْهِ حُلَّتَانِ مِنْ حُلَلِ الْيَمَنِ ، فَقَالَ : " يَا ضَمْرَةُ ، أَتُرَى ثَوْبَيْكَ هَذَيْنِ مُدْخِلَيْكَ الْجَنَّةَ ؟ " . فَقَالَ : لَئِنِ اسْتَغْفَرْتَ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ لَا أَقْعُدُ حَتَّى أَنْزِعَهُمَا عَنِّي . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِضَمْرَةَ بْنِ ثَعْلَبَةَ " . فَانْطَلَقَ سَرِيعًا حَتَّى نَزْعَهُمَا عَنْهُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُ . ¤سیدنا عمرو بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ان کے جسم پر یمن کے بنے ہوئے دو حلے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے ضمرہ ! کیا تم اپنے ان دو کپڑوں کے بارے میں یہ سمجھتے ہو کہ یہ تمہیں جنت میں داخل کروا دیں گے ؟ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر آپ میرے لئے دعائے مغفرت کریں ، تو میں بیٹھنے سے پہلے انہیں اُتار دوں گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے اللہ ! تو ضمرہ کی مغفرت کر دے ، تو وہ تیزی سے گئے اور انہوں نے وہ لباس تبدیل کر لیا ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔