مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي ضَمْرَةَ بْنِ ثَعْلَبَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - باب: حضرت ضمرہ بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
وَعَنْهُ : أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : ادْعُ اللَّهَ لِي بِالشَّهَادَةِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اللَّهُمَّ حَرِّمْ دَمَ ابْنِ ثَعْلَبَةَ عَلَى الْمُشْرِكِينَ وَالْكُفَّارِ " . ¤ قَالَ : فَكُنْتُ أَحْمِلُ فِي عُرْضِ الْقَوْمِ فَيَتَرَاءَى لِي النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَلْفَهُمْ ، فَقَالُوا : يَا ابْنَ ثَعْلَبَةَ ، إِنَّكَ لَتُغَرَّرُ وَتَحْمِلُ عَلَى الْقَوْمِ ، فَقَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتَرَاءَى لِي خَلْفَهُمْ ، فَأَحْمِلُ عَلَيْهِمْ حَتَّى أَقِفَ عِنْدَهُ ، ثُمَّ يَتَرَاءَى لِي أَصْحَابِي فَأَحْمِلُ حَتَّى أَكُونَ مَعَ أَصْحَابِي . قَالَ : فَعُمِّرَ زَمَانًا طَوِيلًا مِنْ دَهْرِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤اُن کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی : آپ اللہ تعالیٰ سے میرے لئے شہادت کی دعا کیجئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے اللہ ! ابن ثعلبہ کے خون کو مشرکین اور کفار پر حرام قرار دیدے ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : میں دشمن پر حملہ کرتا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے ملاحظہ فرماتے کہ میں ان کے پیچھے ہوں ، تو لوگ کہتے : اے ابن ثعلبہ ! تم ان کے پیچھے ہو ؟ تم انجام کی طرف توجہ دیے بغیر دشمن پر حملہ کر رہے ہو ، تو وہ کہتے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ان کے پیچھے ملاحظہ کیا ہوا ہے ، تو میں ان پر حملہ کرتا ، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر ٹھہر جاتا ، پھر میں اپنے ساتھیوں کی طرف جاتا اور ان کے ساتھ مل کر حملہ آور ہو جاتا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : ( ان صحابی نے ) لمبی عمر پائی تھی ۔