مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابٌ فَرْضُ الصَّلَاةِ . باب: نماز کی فرضیت کا بیان
وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ أَنَّ رَجُلًا مَرَّ عَلَى قَوْمٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ ، فَرَدُّوا عَلَيْهِ السَّلَامَ ، فَلَمَّا جَاوَزَهُمْ قَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ : وَاللَّهِ إِنِّي لَأُبْغِضُ هَذَا فِي اللَّهِ . فَقَالَ أَهْلُ الْمَجْلِسِ : بِئْسَ وَاللَّهِ مَا قُلْتَ ، أَمَا وَاللَّهِ لِنُنْبِئَنَّهُ ، قُمْ يَا فُلَانُ - رَجُلًا مِنْهُمْ - فَأَخْبِرْهُ ، فَأَدْرَكَهُ رَسُولُهُمْ فَأَخْبَرَهُ بِمَا قَالَ ، فَانْصَرَفَ الرَّجُلُ حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَرَرْتُ بِمَجْلِسٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فِيهِمْ فُلَانٌ ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِمْ فَرَدُّوا السَّلَامَ ، فَلَمَّا جَاوَزْتُهُمْ أَدْرَكَنِي رَجُلٌ مِنْهُمْ فَأَخْبَرَنِي أَنَّ فُلَانًا قَالَ : وَاللَّهِ إِنِّي لَأُبْغِضُ هَذَا الرَّجُلَ فِي اللَّهِ ، فَادْعُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَسَلْهُ عَلَى مَا يُبْغِضُنِي ، فَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَأَلَهُ عَمَّا أَخْبَرَهُ الرَّجُلُ ، فَاعْتَرَفَ بِذَلِكَ وَقَالَ : قَدْ قُلْتُ لَهُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَلِمَ تُبْغِضُهُ ؟ " فَقَالَ : أَنَا جَارُهُ ، وَأَنَا بِهِ خَابِرٌ ، وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُهُ يُصَلِّي صَلَاةً قَطُّ إِلَّا هَذِهِ الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ الَّتِي يُصَلِّيهَا الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ . قَالَ : سَلْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ رَآنِي قَطُّ أَخَّرْتُهَا عَنْ وَقْتِهَا ، أَوْ أَسَأْتُ الْوُضُوءَ لَهَا ، أَوْ أَسَأْتُ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ فِيهَا ؟ فَسَأَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : لَا وَاللَّهِ ، [ ثُمَّ قَالَ : وَاللَّهِ ] مَا رَأَيْتُهُ يَصُومُ قَطُّ إِلَّا هَذَا الشَّهْرَ الَّذِي يَصُومُهُ الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ . قَالَ : سَلْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ رَآنِي قَطُّ فَرَّطْتُ فِيهِ أَوِ انْتَقَصْتُ مِنْ حَقِّهِ شَيْئًا ؟ فَسَأَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : لَا . ثُمَّ قَالَ : وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُهُ يُعْطِي سَائِلًا قَطُّ ، وَلَا رَأَيْتُهُ يُنْفِقُ مِنْ مَالِهِ شَيْئًا فِي شَيْءٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلَّا هَذِهِ الصَّدَقَةَ الَّتِي يُؤَدِّيهَا الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ . قَالَ : فَسَلْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ كَتَمْتُ مِنَ الزَّكَاةِ شَيْئًا قَطُّ أَوْ مَاكَسْتُ فِيهَا طَالِبَهَا ؟ قَالَ : فَسَأَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : لَا . فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قُمْ ، إِنْ أَدْرِي لَعَلَّهُ خَيْرٌ مِنْكَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ أَثْبَاتٌ . ¤سیدنا ابوطفیل عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص کا گزر ، کچھ لوگوں کے پاس سے ہوا ، اُس نے ان کو سلام کیا ، لوگوں نے اُسے جواب دیا : جب وہ اُن لوگوں سے آگے چلا گیا ، تو ان افراد میں سے ایک شخص نے یہ کہا: اللہ کی قسم ! میں اللہ تعالیٰ کی ذات کی خاطر ، اس شخص کو ناپسند کرتا ہوں ، حاضرین محفل نے کہا: اللہ کی قسم ! تم نے بری بات کہی ہے ، اللہ کی قسم ! میں اس شخص کو اس بارے میں ضرور بتاؤں گا ، پھر انہوں نے اپنے میں سے ایک فرد سے یہ کہا: اے فلاں ! تم اُٹھو اور اسے اس بارے میں بتا دو ! ان لوگوں کا قاصد دوسرے شخص کے پاس گیا ، اور اس شخص کے قول کے بارے میں اسے بتایا ، تو وہ شخص مڑا ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں مسلمانوں کی ایک محفل کے پاس سے گزرا ، جن میں فلاں شخص موجود تھا ، میں نے ان لوگوں کو سلام کیا ، اُن لوگوں نے سلام کا جواب دیا : ، جب میں ان لوگوں سے آگے چلا گیا ، تو اُس کے بعد اُن میں سے ایک شخص میرے پاس آیا اور اس نے مجھے بتایا : فلاں شخص نے یہ کہا: ہے : اللہ کی قسم ! میں اللہ کی ذات کی خاطر اس شخص سے بغض رکھتا ہوں یا رسول اللہ ! آپ اُسے بلوائیے اور اس سے دریافت کیجئے کہ وہ کس وجہ سے مجھ سے بغض رکھتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دوسرے شخص کو بلوایا اور اس سے اس چیز کے بارے میں دریافت کیا : جو پہلے شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا تھا ، تو دوسرے شخص نے اس بات کا اعتراف کر لیا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے اس شخص کے لئے یہ بات کہی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم کیوں اس سے بغض رکھتے ہو ؟ اس دوسرے شخص نے جواب دیا : میں اس کا پڑوسی ہوں ، اور میں اس کے بارے میں بتاتا ہوں ، اللہ کی قسم ! میں نے اسے کبھی نماز ادا کرتے ہوئے نہیں دیکھا ، یہ صرف فرض نماز ادا کرتا ہے ، جسے ہر نیک اور گنہگار پڑھ لیتا ہے ، تو پہلے شخص نے کہا: یا رسول اللہ ! آپ اس سے یہ پوچھ لیں کہ کیا اس نے مجھے کبھی دیکھا ہے کہ میں نے نماز کو اس کے مخصوص وقت سے تاخیر سے ادا کیا ہو ؟ یا میں نے نماز کے لئے وضو کرتے ہوئے غلطی کی ہو ؟ یا نماز کے دوران رکوع ، یا سجدے میں غلطی کی ہو ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے شخص سے دریافت کیا : تو اس نے جواب دیا : جی نہیں ! اللہ کی قسم ! ( یعنی میں نے اسے کبھی ایسا کرتے ہوئے نہیں دیکھا ) پھر اس دوسرے شخص نے کہا: اللہ کی قسم ! میں نے اسے کبھی ( کوئی نفلی روزہ رکھتے ہوئے نہیں دیکھا ، یہ صرف اس مخصوص مہینے کے روزے رکھتا ہے ، جس کے روزے ہر نیک اور گنہگار رکھ لیتا ہے ، تو پہلے شخص نے کہا: یا رسول اللہ ! آپ اس سے یہ پوچھیے کہ کیا اس نے مجھے کبھی ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے کہ میں نے روزے کے بارے میں افراط سے کام لیا ہو ؟ یا روزے کے حق کے حوالے سے کوئی کمی کی ہو ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے شخص سے دریافت کیا : تو اُس نے جواب دیا : جی نہیں ! ( یعنی میں نے اسے کبھی ایسا کرتے ہوئے نہیں دیکھا ) پھر اس دوسرے شخص نے کہا: اللہ کی قسم ! میں نے اسے کبھی کسی مانگنے والے کو کچھ دیتے ہوئے نہیں دیکھا ، اور نہ ہی میں نے اسے کبھی اپنے مال میں سے ، اللہ کی راہ میں کوئی چیز خرچ کرتے ہوئے دیکھا ہے ، البتہ اس زکوٰۃ کا معاملہ مختلف ہے ، جسے ہر نیک اور گنہگار شخص ادا کرتا ہے ، تو پہلے شخص نے کہا: یا رسول اللہ ! ! آپ اس سے پوچھیے ! کہ کیا میں نے زکوٰۃ میں سے کوئی چیز چھپائی ہے ؟ یا میں نے زکوٰۃ وصول کرنے والے شخص کے ساتھ کبھی کوئی جھگڑا کیا ہے ؟ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے شخص سے اس بارے میں دریافت کیا : تو اس نے جواب دیا : جی نہیں ! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : تم اُٹھ جاؤ ! میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ شخص تم سے زیادہ بہتر ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور امام أحمد کے رجال ” ثقہ “ اور ثبت ہیں ۔