مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابٌ فَرْضُ الصَّلَاةِ . باب: نماز کی فرضیت کا بیان
وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ قَوْقَلَ أَنَّهُ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ إِذَا صَلَّيْتُ الْمَكْتُوبَةَ ، وَصُمْتُ رَمَضَانَ ، وَحَرَّمْتُ الْحَرَامَ ، وَأَحْلَلْتُ الْحَلَالَ ، وَلَمْ أَزِدْ عَلَى ذَلِكَ - أَدْخُلُ الْجَنَّةَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . قَالَ : وَاللَّهُ لَا أَزِيدُ عَلَى ذَلِكَ شَيْئًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَهُوَ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ جَابِرٍ . ¤سیدنا نعمان بن قوقل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ! اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ اگر میں فرض نماز ادا کروں ، رمضان کے روزے رکھوں ، حرام کو حرام سمجھوں ، حلال کو حلال سمجھوں اور میں اس پر کوئی اضافہ نہ کروں ، تو کیا میں جنت میں داخل ہو جاؤں گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! تو ان صاحب نے کہا: اللہ کی قسم ! میں اس میں کوئی اضافہ نہیں کروں گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، اور یہ روایت ” صحیح “ میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث ہونے کے طور پر مذکور ہے ۔