حدیث نمبر: 1600
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : جَاءَ أَعْرَابِيٌّ مِنْ بَنِي سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا غُلَامَ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، [ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَعَلَيْكَ السَّلَامُ " فَقَالَ : إِنِّي رَجُلٌ مِنْ أَخْوَالِكَ مِنْ بَنِي سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ ، وَأَنَا رَسُولُ قَوْمِي إِلَيْكَ وَوَافِدُهُمْ وَإِنِّي سَائِلُكَ فَمُشْتَدَّةٌ مَسْأَلَتِي إِيَّاكَ ، وَمُنَاشِدُكَ فَمُشْتَدَّةٌ مُنَاشَدَتِي إِيَّاكَ ] فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " دُونَكَ يَا أَخَا بَنِي سَعْدٍ " ، فَقَالَ : مَنْ خَلَقَكَ ؟ وَمَنْ خَلَقَ مَنْ قَبْلَكَ ؟ وَمَنْ هُوَ خَالِقُ مَنْ بَعْدَكَ ؟ قَالَ : " اللَّهُ " . قَالَ : فَنَشَدْتُكَ بِذَلِكَ ، أَهْوَ أَرْسَلَكَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . قَالَ : مَنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَالْأَرَضِينَ السَّبْعَ ، وَأَجْرَى بَيْنَهُنَّ الرِّزْقَ ؟ قَالَ : " اللَّهُ " . قَالَ : فَنَشَدْتُكَ بِذَلِكَ ، أَهْوَ أَرْسَلَكَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . قَالَ : فَإِنَّا قَدْ وَجَدْنَا فِي كِتَابِكَ وَأَمَرَتْنَا رُسُلُكَ أَنْنُصَلِّيَ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ خَمْسَ صَلَوَاتٍ لِمَوَاقِيتِهَا ، فَنَشَدْتُكَ بِذَلِكَ ، أَهْوَ أَمَرَكَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . قَالَ : فَإِنَّا قَدْ وَجَدْنَا فِي كِتَابِكَ وَأَمَرَتْنَا [ رُسُلُكَ أَنْ نَصُومَ شَهْرَ رَمَضَانَ فَنَشَدْتُكَ بِذَلِكَ أَهُوَ أَمَرَكَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " قَالَ فَإِنَّا قَدْ وَجَدْنَا فِي كِتَابِكَ وَأَمَرَتْنَا ] رُسُلُكَ أَنْ تَأْخُذَ مِنْ حَوَاشِي أَمْوَالِنَا فَتَجْعَلَهُ فِي فُقَرَائِنَا ، فَنَشَدْتُكَ بِذَلِكَ ، أَهْوَ أَمَرَكَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . قَالَ : أَمَّا الْخَامِسَةُ فَلَسْتُ بِسَائِلِكَ عَنْهَا وَلَا أَرَبَ لِي فِيهَا - يَعْنِي الْفَوَاحِشَ - ثُمَّ قَالَ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَأَعْمَلَنَّ بِهَا وَمَنْ أَطَاعَنِي مِنْ قَوْمِي ، ثُمَّ رَجَعَ ، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - [ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ ] ثُمَّ قَالَ : " لَئِنْ صَدَقَ لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ اخْتَلَطَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : بنو سعد بن بکر سے تعلق رکھنے والا ایک دیہاتی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولا: اسے اولاد عبدالمطلب سے تعلق رکھنے والے نوجوان ! آپ پر سلام ہو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : تم پر بھی سلام ہو ، اس نے کہا: میں آپ کے ننھیالی عزیز بنو سعد بن بکر سے تعلق رکھنے والا شخص ہوں ، اور میں اپنی قوم کے قاصد اور اُن کے نمائندے کے طور پر آپ کے پاس آیا ہوں ، میں آپ سے کچھ سوالات کروں گا ، آپ سے کیے جانے والے سوالات میں ، لہجہ تیز ہو سکتا ہے ، اور آپ کے ساتھ ہونے والے مکالمے میں کچھ شدت ہو سکتی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : اے بنو سعد سے تعلق رکھنے والے فرد ! تم بولو ! اس نے دریافت کیا : آپ کو کس نے پیدا کیا ہے ، اور آپ سے پہلے لوگوں کو کس نے پیدا کیا ہے ؟ اور آپ کے بعد والوں کو پیدا کرنے والا کون ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا : اللہ تعالی اس نے کہا: پھر میں آپ کو اسی کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں ، کہ کیا آپ کو اس نے مبعوث کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا : جی ہاں ! اس نے دریافت کیا : سات آسمانوں اور سات زمینوں کو کس نے پیدا کیا ہے ؟ اور ان کے درمیان رزق کس نے جاری کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا : اللہ تعالیٰ نے ، اُس نے کہا: پھر میں آپ کو اسی کا واسطہ دے کر یہ دریافت کرتا ہوں ، کیا اُسی نے آپ کو مبعوث کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا : جی ہاں ! اُس نے کہا: آپ کے مکتوب میں ہم نے یہ بات پائی ہے ، اور آپ کے قاصدوں نے ہمیں یہ حکم دیا ہے : کہ ہم دن اور رات میں پانچ نمازیں ان کے مخصوص اوقات میں ادا کریں ، میں آپ کو اُسی ذات کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں ، کہ کیا اُس نے آپ کو اس چیز کا حکم دیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا : جی ہاں ! اس شخص نے کہا: ہم نے آپ کے مکتوب میں یہ بات پائی ہے ، اور آپ کے قاصدوں نے ہمیں یہ حکم دیا ہے : کہ ہم رمضان کے مہینے کے روزے رکھیں ، تو میں آپ کو اُسی ذات کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں ؛ کیا اُس نے آپ کو اس بات کا بھی حکم دیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا : جی ہاں ! اُس نے کہا: ہم نے آپ کے مکتوب میں یہ بات پائی ہے ، اور آپ کے قاصدوں نے ہمیں یہ بات بتائی ہے : کہ ہم اپنے اموال میں سے کچھ حصہ لے کر اُسے اپنے غریبوں میں تقسیم کر دیں ، میں آپ کو اسی ذات کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں : کیا اُس نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا : جی ہاں ! اس نے کہا: جہاں تک پانچویں چیز کا تعلق ہے ، تو اس کے بارے میں ، میں آپ سے سوال نہیں کروں گا ، اور نہ ہی اس بات میں مجھے دلچسپی ہے ، راوی کہتے ہیں : اس کی مراد ” فواحش “ تھی ، پھر اُس نے کہا: اُس ذات قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، میں اُن چیزوں پر عمل کروں گا ، اور میری قوم میں سے ، جو شخص بھی میری اطاعت کرے گا ، وہ بھی اس پر عمل کرے گا ، پھر وہ شخص واپس چلا گیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیئے ، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اطراف کے دانت نظر آنے لگے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر یہ سچ کہہ رہا ہے ، تو یہ ضرور جنت میں داخل ہو گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور مجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ، اور وہ ” ثقہ “ ہے ، لیکن وہ اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1600
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف