حدیث نمبر: 1599
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : بَعَثَتْ بَنُو سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ ضِمَامَ بْنَ ثَعْلَبَةَ وَافِدًا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَدِمَ عَلَيْهِ ، فَأَنَاخَ بَعِيرَهُ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ ثُمَّ عَقَلَهُ ، ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَالِسٌ فِي أَصْحَابِهِ - وَكَانَ ضِمَامٌ رَجُلًا أَشْعَرَ ذَا غَدِيرَتَيْنِ - فَأَقْبَلَ حَتَّى وَقَفَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي أَصْحَابِهِ فَقَالَ : أَيُّكُمُ ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ " . قَالَ : مُحَمَّدٌ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . قَالَ : ابْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، إِنِّي سَائِلُكَ وَمُغْلِظٌ فِي الْمَسْأَلَةِ ، فَلَا تَجِدَنَّ فِي نَفْسِكَ . قَالَ : " لَا أَجِدُ فِي نَفْسِي ، فَسَلْ عَمَّا بَدَا لَكَ " . قَالَ : أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ إِلَهِكَ وَإِلَهِ مَنْ قَبْلَكَ وَإِلَهِ مَنْ هُوَ كَائِنٌ بَعْدَكَ ، آللَّهُ بَعَثَكَ إِلَيْنَا رَسُولًا ؟ قَالَ : " اللَّهُمَّ نَعَمْ " ، فَقَالَ : أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ إِلَهِكَ وَإِلَهَ مَنْ هُوَ كَائِنٌ بَعْدَكَ ، آللَّهُ أَمَرَكَ أَنَّ تَأْمُرَنَا أَنْ نَعْبُدَهُ لَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا ، وَأَنْ نَخْلَعَ هَذِهِ الْأَنْدَادَ الَّتِي كَانَ آبَاؤُنَا يَعْبُدُونَ مَعَهُ ؟ قَالَ : " اللَّهُمَّ نَعَمْ " . قَالَ : فَأَنْشُدُكَ اللَّهَ إِلَهَكَ وَإِلَهَ مَنْ قَبْلَكَ وَإِلَهَ مَنْ هُوَ كَائِنٌ بَعْدَكَ ، آللَّهُ أَمَرَكَ أَنَّ تُصَلِّيَ هَذِهِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ ؟ قَالَ : " اللَّهُمَّ نَعَمْ " . قَالَ : ثُمَّ جَعَلَ يَذْكُرُ فَرَائِضَ الْإِسْلَامِ فَرِيضَةً فَرِيضَةً : الزَّكَاةَ ، وَالصِّيَامَ ، وَالْحَجَّ ، وَشَرَائِعَ الْإِسْلَامِ كُلَّهَا ، يُنَاشِدُهُ عِنْدَ كُلِّ فَرِيضَةٍ كَمَا نَاشَدَهُ فِي الَّتِي قَبْلَهَا ، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ : إِنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، وَسَأُؤَدِّي هَذِهِ الْفَرَائِضَ وَأَجْتَنِبُ مَا نَهَيْتِنِي عَنْهُ ، لَا أَزْيَدَ وَلَا أَنْقُصُ . قَالَ : ثُمَّ انْصَرَفَ رَاجِعًا إِلَى بَعِيرِهِ . قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ وَلَّى : " إِنْ صَدَقَ ذُو الْعَقِيصَتَيْنِ يَدْخُلِ الْجَنَّةَ " . ¤ قَالَ : فَأَتَى بَعِيرَهُ فَأَطْلَقَ عِقَالَهُ ، ثُمَّ خَرَجَ حَتَّى قَدِمَ عَلَى قَوْمِهِ فَاجْتَمَعُوا إِلَيْهِ ، فَكَانَ أَوَّلُ مَا تَكَلَّمَ بِهِ أَنْ قَالَ : بِئْسَتِ اللَّاتُ وَالْعُزَّى . قَالُوا : مَهْ يَا ضِمَامُ ، اتَّقِ الْبَرَصَ وَالْجُذَامَ ، اتَّقِ الْجُنُونَ . قَالَ : وَيْلَكُمْ ، إِنَّهُمَا وَاللَّهِ مَا يَضُرَّانِ وَلَا يَنْفَعَانِ ، إِنَّ اللَّهَ قَدْ بَعَثَ رَسُولًا ، وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ كِتَابًا اسْتَنْقَذَكُمْ بِهِ مِمَّا كُنْتُمْ فِيهِ ، وَإِنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّمُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، وَقَدْ جِئْتُكُمْ مِنْ عِنْدِهِ بِمَا أَمَرَكُمْ بِهِ وَنَهَاكُمْ عَنْهُ . قَالَ : فَوَاللَّهِ مَا أَمْسَى فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ وَفِي حَاضِرِهِ رَجُلٌ وَلَا امْرَأَةٌ إِلَّا مُسْلِمًا . قَالَ : يَقُولُ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَمَا سَمِعْنَا بِوَافِدِ قَوْمٍ أَفْضَلَ مِنْ ضِمَامٍ . ¤ قُلْتُ : عَزَاهُ صَاحِبُ الْأَطْرَافِ إِلَى أَبِي دَاوُدَ ، وَلَمْ أَجِدْ فِي أَبِي دَاوُدَ إِلَّا طَرَفًا مِنْ أَوَّلِهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : بنو سعد بن بکر نے ضمام بن ثعلبہ کو وافد ( یعنی نمائندے کے طور پر ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اُس نے مسجد کے دروازے پر اپنے اونٹ کو بٹھایا اور پھر اُسے باندھ دیا ، پھر وہ مسجد میں داخل ہوا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت اپنے اصحاب کے درمیان تشریف فرما تھے ، ضمام ایک ایسا شخص تھا ، جس کے بال زیادہ تھے ، اور اس نے زلفیں رکھی ہوئی تھیں ، وہ آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے درمیان موجود ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر ٹھہر گیا ، اُس نے دریافت کیا : آپ لوگوں میں سے جناب عبدالمطلب کے صاحبزادے کون ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں عبدالمطلب کا صاحبزادہ ہوں ، اُس نے دریافت کیا : آپ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا : جی ہاں ! اس نے کہا: جناب عبدالمطلب کے صاحبزادے ! میں آپ سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں ، سوال کرتے ہوئے میرے لہجے میں سختی ہو سکتی ہے ، تو آپ اس بات کا برا نہ منائیے گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں برا نہیں مناؤں گا ، تمہیں جو مناسب لگتا ہے ، تم پوچھو ! اس نے کہا: میں آپ کو اس اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں ، جو آپ کا معبود ہے ، اور آپ سے پہلے والوں کا معبود ہے ، اور آپ کے بعد جو لوگ بھی ہوں گے ، اُن کا معبود ہے ، کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہماری طرف رسول بنا کر مبعوث کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ جانتا ہے ، جی ہاں ! اس نے کہا: میں آپ کو اس اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں ، جو آپ کا بھی معبود ہے ، اور ہر اس فرد کا معبود ہے ، جو آپ کے بعد ہو گا ، کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ حکم دیا ہے کہ آپ ہمیں اس بات کا حکم دیں کہ ہم اُسی کی عبادت کریں اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائیں ، اور اپنے ان باطل معبودوں سے الگ ہو جائیں ، جن کی ہمارے آباؤ اجداد ، اللہ تعالیٰ کے ہمراہ عبادت کیا کرتے تھے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ جانتا ہے ، ایسا ہی ہے ، اُس نے کہا: میں آپ کو اُس اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں ، جو آپ کا معبود ہے ، اور آپ سے پہلے والوں کا اور آپ کے بعد جتنے بھی ہوں گے ، اُن کا معبود ہے ، کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ حکم دیا ہے کہ آپ نے یہ پانچ نمازیں ادا کرنی ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ جانتا ہے ، جی ہاں ! راوی بیان کرتے ہیں : پھر اُس شخص نے اسلام کے فرائض کو ایک ، ایک کر کے ذکر کیا ، زکوۃ ، روزوں ، حج اور شریعت کے تمام بنیادی احکام کا ذکر کیا اور ہر فرض کا ذکر کرتے ہوئے ، اُس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا واسطہ دیا ، اور جس طرح اُس سے پہلے والے فرض کے بارے میں ، اُس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو واسطہ دے کر دریافت کیا تھا ، جب وہ اس بات سے فارغ ہوا ، تو وہ بولا: کہ میں اس کی بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ، میں آگے چل کر یہ فرائض سرانجام دوں گا ، اور آپ نے مجھے جن چیزوں سے منع کیا ہے ، اُن سے اجتناب کروں گا میں ان احکام میں کوئی کمی یا کوئی اضافہ نہیں کروں گا ، راوی کہتے ہیں : پھر وہ اپنے اونٹ کی طرف جانے کے لئے مڑ گیا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : جب وہ مڑ گیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر یہ زلفوں والا شخص سچ کہہ رہا ہے ، تو یہ جنت میں داخل ہو گا “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : وہ شخص اپنے اونٹ کے پاس آیا ، اُس نے اپنے اونٹ کی رسی کھولی ، پھر وہ وہاں سے روانہ ہوا ، یہاں تک کہ وہ اپنی قوم کے پاس آیا ، لوگ اکھٹے ہو کر اس کے پاس آئے ، تو اس نے جو سب سے پہلی بات کی وہ یہ کہی : لات اور عزیٰ بہت برے ہیں ، اُن لوگوں نے کہا: اے ضمام رک جاؤ ! تم برص اور جذام سے بچ کے رہو ! تم جنون سے بچ کے رہو ! اُس نے کہا: تم لوگوں کا ستیاناس ہو ، اللہ کی قسم ! یہ دونوں نہ تو کوئی نقصان دے سکتے ہیں ، اور نہ کوئی نفع دے سکتے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے رسول کو مبعوث کیا ہے ، اور ان پر کتاب نازل کی ہے ، تاکہ وہ اُس رسول کے ذریعے تمہیں اس چیز ( یعنی شرک ) سے بچائے ، جس میں تم مبتلا ہو ، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، صرف وہی معبود ہے ، اُس کا کوئی شریک نہیں ہے ، اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، میں ان کے پاس سے تمہارے پاس وہ چیز لے کے آیا ہوں ، جس کا انہوں نے تمہیں حکم دیا ہے ، اور جس چیز سے انہوں نے تمہیں منع کیا ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : اللہ کی قسم ! اس دن شام ہونے سے پہلے ، وہاں جتنے بھی مرد اور عورت موجود تھے ۔ ان میں سے ہر ایک مسلمان ہو گیا ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : کسی بھی قوم کے نمائندے کے بارے میں ، ہم نے یہ نہیں سنا ، جو ضمام سے زیادہ فضیلت رکھتا ہو ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) ” اطراف “ کے مصنف نے اس روایت کی نسبت امام ابوداؤد کی طرف کی ہے ، لیکن میں نے سنن ابوداؤد میں یہ روایت نہیں پائی ، اس کا صرف ابتدائی حصہ پایا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1599
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «صحيح ابن خزيمة كتاب الزكاة ، جماع ابواب قسم المصدقات باب الرخصة فى قسم المرء صدقته من غير دفعها إلى الوالى ، حديث 2217 المستدرك على الصحيحين للحاكم كتاب المغازى والسرايا ، 4329 سنن الدارمي كتاب الطهارة ، باب فرض الوضوء والصلاة 687 مصنف ابن ابي شيبة كتاب الإيمان والرويا ، ما ذكر فى الإيمان والإسلام 29704 مسند احمد بن حنبل مسند عبد الله بن العباس بن عبد المطلب 2311 السنن الكبرى للبيهقى كتاب قسم الصدقات ، باب ما جاء فى رب المال يتولى تفرقة زكاة ماله بنفسه 12259 المعجم الاوسط للطبراني باب الالف ، باب من اسمه إبراهيم 2760 المعجم الكبير للطبراني باب الصاد ، باب الضاد ضمام بن ثعلبة الازدي ، 8034 دلائل النبوة للبيهقي جماع ابواب غزوة تبوك ، باب قدوم ضمام بن ثعلبة على رسول الله صلى الله عليه 2113»