مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي سَفِينَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - باب: حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ سَفِينَةَ قَالَ : كُنْتُ فِي الْبَحْرِ ، فَانْكَسَرَتْ سَفِينَتُنَا فَلَمْ نَعْرِفِ الطَّرِيقَ ، فَإِذَا أَنَا بِالْأَسَدِ قَدْ عَرَضَ لَنَا ، فَتَأَخَّرَ أَصْحَابِي فَدَنَوْتُ مِنْهُ ، فَقُلْتُ : أَنَا سَفِينَةُ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدْ أَضْلَلْنَا الطَّرِيقَ ، فَمَشَى بَيْنَ يَدَيَّ حَتَّى أَوْقَفَنَا عَلَى الطَّرِيقِ ، ثُمَّ تَنَحَّى وَدَفَعَنِي كَأَنَّهُ يُرِينِي الطَّرِيقَ ، فَظَنَنْتُ أَنَّهُ يُوَدِّعُنَا . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : فَانْكَسَرَتْ سَفِينَتِي الَّتِي كُنْتُ فِيهَا ، فَرَكِبْتُ لَوْحًا مِنْ أَلْوَاحِهَا فَطَرَحَنِي اللَّوْحُ فِي أَجَمَةٍ فِيهَا الْأَسَدُ ، فَأَقْبَلَ إِلَيَّ يُرِيدُنِي ، فَقُلْتُ : يَا أَبَا الْحَارِثِ ، أَنَا سَفِينَةُ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَطَأْطَأَ رَأْسَهُ وَأَقْبَلَ إِلَيَّ فَدَفَعَنِي بِمِنْكَبِهِ . وَالْبَاقِي بِنَحْوِهِ . ¤سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں سمندر میں تھا ، ہماری کشتی ٹوٹ گئی ، ہمیں راستے کا پتہ نہیں تھا ، اسی دوران ایک شیر ہمارے سامنے آیا ، میرے ساتھی پیچھے ہٹ گئے ، میں اس کے قریب ہوا ، میں نے کہا: میں ” سفینہ “ ہوں ، جو اللہ کے رسول کا صحابی ہے ، ہم راستے سے بھٹک گئے ہیں ، تو وہ شیر ہمارے سامنے چلتا ہوا گیا ، یہاں تک کہ اس نے ہمیں راستے تک پہنچا دیا ، پھر وہ ایک طرف ہٹا اور اس نے مجھے آگے ہونے کا موقع دیا ، یوں جیسے وہ مجھے راستہ دکھا رہا ہو ، تو مجھے اندازہ ہو گیا کہ وہ ہم سے رخصت ہونے لگا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : میری وہ کشتی ٹوٹ گئی جس میں ، میں موجود تھا ، پھر میں ایک تختے پر سوار ہوا ، اس تختے نے مجھے ایک جنگل میں پہنچا دیا ، جس میں شیر موجود تھا ، وہ میری طرف آیا ، وہ مجھ پر حملہ کرنے کا ارادہ رکھتا تھا ، میں نے کہا: اے ابوالحارث ! میں ” سفینہ “ ہوں ، جو اللہ کے رسول کا غلام ہے ، تو اس نے اپنے سر کو جھکا لیا اور پھر وہ میری طرف آیا اور اس نے اپنے کندھے کے ذریعے مجھے آگے کیا ، باقی روایت حسب سابق ہے ۔