حدیث نمبر: 15971
وَعَنْ عِمْرَانَ الْبَجَلِيِّ ، عَنْ مَوْلًى لِأُمِّ سَلَمَةَ قَالَ : كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَفَرٍ ، فَانْتَهَيْنَا إِلَى وَادٍ . قَالَ : فَجَعَلْتُ أَعْبُرُ النَّاسَ أَوْ أَحْمِلُهُمْ قَالَ : فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا كُنْتَ الْيَوْمَ إِلَّا سَفِينَةً ، أَوْ مَا أَنْتَ إِلَّا سَفِينَةٌ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

عمران بجلی نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے غلام کا یہ بیان نقل کیا ہے : میں ایک سفر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا ، ہم ایک وادی کے پاس پہنچے ، تو میں لوگوں کو عبور کروانے لگا ( یا لوگوں کا وزن اٹھوانے لگا ) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم آج سفینہ ہو “ ( یہاں لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ، لیکن مفہوم یہی ہے ) ۔
یہ روایت امام أحمد نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے اور ان میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15971
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (221/5)»