مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي سَفِينَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - باب: حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ أَنَّهُ : لَقِيَ سَفِينَةَ بِبَطْنِ نَخْلَةَ فِي زَمَنِ الْحَجَّاجِ قَالَ : فَأَقَمْتُ عِنْدَهُ ثَمَانِ لَيَالٍ أَسْأَلُهُ عَنْ أَحَادِيثِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : قُلْتُ لَهُ : مَا اسْمُكَ ؟ قَالَ : مَا أَنَا بِمُخْبِرِكَ ! سَمَّانِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَفِينَةَ . قُلْتُ : وَلِمَ سَمَّاكَ سَفِينَةَ ؟ قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعَهُ أَصْحَابُهُ ، فَثَقُلَ عَلَيْهِمْ مَتَاعُهُمْ ، فَقَالَ لِي : " ابْسُطْ كِسَاءَكَ " . فَبَسَطْتُهُ ، فَجَعَلُوا فِيهِ مَتَاعَهُمْ ثُمَّ حَمَلُوهُ عَلَيَّ ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " احْمِلْ ؛ فَإِنَّمَا أَنْتِ سَفِينَةٌ " . فَلَوْ حَمَلْتُ يَوْمَئِذٍ وِقْرَ بَعِيرٍ أَوْ بَعِيرَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةٍ أَوْ أَرْبَعَةٍ أَوْ خَمْسَةٍ أَوْ سِتَّةٍ أَوْ سَبْعَةٍ مَا ثَقُلَ عَلَيَّ إِلَّا أَنْ يَحْفُوا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ وَالطَّبَرَانِيِّ ثِقَاتٌ . ¤سعید بن جمہان بیان کرتے ہیں : حجاج کے زمانے میں ” بطن نخلہ “ کے مقام پر ان کی ملاقات سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، راوی کہتے ہیں : میں آٹھ دن ان کے پاس ٹھہرا رہا تاکہ ان سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کے بارے میں سوالات کرتا رہوں ، راوی کہتے ہیں : میں نے ان سے دریافت کیا : آپ کا نام کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : میں تمہیں یہ نہیں بتاؤں گا کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ” سفینہ “ کا نام دیا ہے ، میں نے دریافت کیا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو ” سفینہ “ کا نام کیوں دیا ہے ؟ تو انہوں نے بتایا : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے ، آپ کے ساتھ آپ کے اصحاب بھی تھے ، ان لوگوں کا ساز و سامان وزنی تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : تم اپنی چادر کو پھیلاؤ ! میں نے اسے پھیلا دیا ، ان لوگوں نے اپنا سامان اس چادر میں رکھ لیا ، پھر ان لوگوں نے وہ سامان مجھ پر لاد دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا : ” تم یہ وزن اٹھا لو ! کیونکہ تم سفینہ ہو ۔ “ سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اگر اس وقت میں ایک اونٹ یا دو اونٹوں یا تین اونٹوں یا چار یا پانچ یا چھ یا سات اونٹوں کا وزن بھی اُٹھا لیتا ، تو وہ بھی میرے لئے بوجھ کا سبب نہ بنتا ، البتہ اگر وہ پیدل ہوتے تو معاملہ مختلف ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے ، امام بزار نے اور امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، امام أحمد اور امام طبرانی کے رجال ثقہ ہیں ۔