مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي طَلْحَةَ بْنِ الْبَرَاءِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - باب: حضرت طلحہ بن براء رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ حُصَيْنِ بْنِ وَحْوَحٍ : أَنَّ طَلْحَةَ بْنَ الْبَرَاءِ لَمَّا لَقِيَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مُرْنِي بِمَا أَحْبَبْتَ فَلَا أَعْصِي لَكَ أَمْرًا . فَعَجِبَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِذَلِكَ وَهُوَ غُلَامٌ ، فَقَالَ : " اذْهَبْ فَاقْتُلْ أَبَاكَ " . ¤ قَالَ : فَخَرَجَ مُوَلِّيًا لِيَفْعَلَ ، فَدَعَاهُ ، فَقَالَ لَهُ : " أَقْبِلْ ; فَإِنِّي لَمْ أُبْعَثْ بِقَطِيعَةِ رَحِمٍ " . ¤ فَمَرِضَ طَلْحَةُ بَعْدَ ذَلِكَ ، فَأَتَاهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَعُودُهُ فِي الْمَسَاءِ فِي غَيْمٍ وَبَرْدٍ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ لِأَهْلِهِ : " إِنِّي لَا أَرَى طَلْحَةَ إِلَّا حَدَثَ فِيهِ الْمَوْتُ ، فَآذِنُونِي حَتَّى أَشْهَدَهُ وَأُصَلِّيَ عَلَيْهِ " . وَأَعْجَلُوا فَلَمْ يَبْلُغِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَنِي سَالِمِ بْنِ عَوْفٍ حَتَّى تُوُفِّيَ ، وَجَنَّ عَلَيْهِ اللَّيْلُ ، وَكَانَ فِيمَا قَالَ طَلْحَةُ : ادْفِنُونِي وَأَلْحِقُونِي بِرَبِّي - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - وَلَا تَدْعُوا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؛ فَإِنِّي أَخَافُ عَلَيْهِ مِنَ الْيَهُودَ ، وَلَا يُصَابُ فِي سَبَبِي . فَأُخْبِرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ أَصْبَحَ ، فَجَاءَ حَتَّى وَقَفَ عَلَى قَبْرِهِ وَصَفَّ النَّاسَ مَعَهُ ، وَقَالَ : " اللَّهُمَّ الْقَ طَلْحَةَ تَضْحَكُ إِلَيْهِ وَيَضْحَكُ إِلَيْكَ " . قُلْتُ : عِنْدَ أَبِي دَاوُدَ طَرَفٌ مِنْ آخِرِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَقَدْ رَوَى أَبُو دَاوُدَ بَعْضَ هَذَا الْحَدِيثِ وَسَكَتَ عَلَيْهِ ؛ فَهُوَ حَسَنٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤حصین بن وحوح بیان کرتے ہیں : سیدنا طلحہ بن براء رضی اللہ عنہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے ، تو انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ جو مناسب سمجھیں مجھے حکم دیں ، میں آپ کے کسی حکم کی نافرمانی نہیں کروں گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات اچھی لگی ، وہ صاحب اس وقت کم عمر تھے ، اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے فرمایا : تم جاؤ اور اپنے باپ کو قتل کر دو ، راوی کہتے ہیں : تو وہ مڑ گئے تاکہ ایسا کریں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلایا اور ان سے فرمایا : ادھر آؤ ! مجھے رشتے داری کے حقوق کو پامال کرنے کے احکام کے ہمراہ مبعوث نہیں کیا گیا ۔ اس کے بعد سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ بیمار ہو گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شام کے وقت اُن کی عیادت کرنے کے لئے ان کے ہاں آئے ، اس وقت بادل بھی تھا اور سردی بھی تھی ، جب آپ واپس تشریف لے جانے لگے تو آپ نے سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کے گھر والوں سے کہا: طلحہ کے بارے میں میرا یہ خیال ہے کہ اس کی موت کا وقت قریب آ چکا ہے ، تو تم لوگ مجھے اس بارے میں بتا دینا تاکہ میں اس کے کفن دفن میں شریک ہو جاؤں ، اور اس کی نماز جنازہ ادا کروں ، اور تم اس بارے میں جلدی کرنا ، ابھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بنو سالم بن عوف کے محلے تک نہیں پہنچے تھے کہ ان صاحب کا انتقال ہو گیا ، اس وقت رات تاریک ہو چکی تھی ، سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے یہ کہا: تھا : تم لوگ مجھے دفن کر دینا اور مجھے میرے پروردگار کے سپرد کر دینا ، تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ بلانا ، کیونکہ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہودیوں کی طرف سے اندیشہ ہے ، تو میں یہ نہیں چاہتا کہ میری وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی نقصان پہنچے ، اگلے دن صبح کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا گیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ان صاحب کی قبر کے پاس کھڑے ہوئے ، لوگوں نے آپ کے پیچھے صف بنا لی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی : ” اے اللہ ! تو طلحہ کے ساتھ ایسی حالت میں ملاقات کرنا کہ تو اس کی طرف دیکھ کے مسکرا رہا ہو ، اور یہ تیری طرف دیکھ کے مسکرا رہا ہو ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے اس روایت کا آخری حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام ابوداؤد نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے اور اس کے حوالے سے خاموشی اختیار کی ہے ، اور اگر اللہ نے چاہا تو
یہ روایت حسن ہو گی ۔