مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي طَلْحَةَ بْنِ الْبَرَاءِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - باب: حضرت طلحہ بن براء رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
عَنْ أَبِي مِسْكِينٍ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مِسْكِينٍ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ الْبَرَاءِ أَنَّهُ : أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : ابْسُطْ - يَعْنِي يَدَكَ - أُبَايِعْكَ . قَالَ : " وَإِنْ أَمَرْتُكَ بِقَطِيعَةِ وَالِدَيْكَ ؟ " . قُلْتُ : لَا . ثُمَّ عُدْتُ لَهُ فَقُلْتُ : ابْسُطْ يَدَكَ أُبَايِعْكَ قَالَ : " عَلَامَ " . قُلْتُ : عَلَى الْإِسْلَامِ قَالَ : " وَإِنْ أَمَرْتُكَ بِقَطِيعَةِ وَالِدَيْكَ ؟ " . قُلْتُ : لَا . ¤ ثُمَّ عُدْتُ الثَّالِثَةَ ، وَكَانَتْ لَهُ وَالِدَةٌ وَكَانَ مِنْ أَبَرِّ النَّاسِ بِهَا ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا طَلْحَةُ ، إِنَّهُ لَيْسَ فِي دِينِنَا قَطِيعَةُ الرَّحِمِ ، وَلَكِنْ أَحْبَبْتُ أَنْ لَا يَكُونَ فِي دِينِكَ رِيبَةٌ " . فَأَسْلَمَ فَحَسُنَ إِسْلَامُهُ . ثُمَّ مَرِضَ فَعَادَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَجَدَهُ مُغْمًى عَلَيْهِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا أَظُنُّ طَلْحَةَ إِلَّا مَقْبُوضًا مِنْ لَيْلَتِهِ ، فَإِنْ أَفَاقَ فَأَرْسِلُوا إِلَيَّ " . فَأَفَاقَ طَلْحَةُ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ ، فَقَالَ : مَا عَادَنِي النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالُوا : بَلَى ، فَأَخْبَرُوهُ بِمَا قَالَ قَالَ : فَقَالَ : لَا تُرْسِلُوا إِلَيْهِ فِي هَذِهِ السَّاعَةِ فَتَلْسَعَهُ دَابَّةٌ أَوْ يُصِيبُهُ شَيْءٌ ، وَلَكِنْ إِذَا فُقِدْتُ فَأَقْرِءُوهُ مِنِّي السَّلَامَ ، وَقُولُوا لَهُ فَلْيَسْتَغْفِرْ لِي . فَلَمَّا صَلَّى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الصُّبْحَ سَأَلَ عَنْهُ ، فَأَخْبَرُوهُ بِمَوْتِهِ وَبِمَا قَالَ قَالَ : فَرَفَعَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدَهُ وَقَالَ : " اللَّهُمَّ الْقَهُ يَضْحَكُ إِلَيْكَ وَأَنْتَ تَضْحَكُ إِلَيْهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا ، وَعَبَدُ رَبِّهِ بْنُ صَالِحٍ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا . ¤ابومسکین نے طلحہ بن مسکین کے حوالے سے سیدنا طلحہ بن براء رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے : کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی : آپ بڑھائیے ! اُن کی مراد یہ تھی کہ آپ اپنا دست مبارک بڑھائیے ، تاکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کر لوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگرچہ میں تمہیں اپنے والدین سے لاتعلقی کا حکم دوں ؟ میں نے عرض کی : جی نہیں ! پھر میں نے آپ کی خدمت میں عرض کی : آپ اپنا ہاتھ بڑھائیے تاکہ میں آپ کی بیعت کر لوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کس چیز پر ؟ میں نے عرض کی : اسلام پر ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگرچہ میں تمہیں تمہارے والدین کے ساتھ لاتعلقی اختیار کرنے کا حکم دوں ؟ میں نے جواب دیا : جی نہیں ! پھر میں نے تیسری مرتبہ عرض کی ( راوی بیان کرتے ہیں : ) اُن صحابی کی ایک والدہ تھیں اور وہ اُس خاتون کے ساتھ سب سے زیادہ اچھا سلوک کیا کرتے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے فرمایا : اے طلحہ ! ہمارے دین میں رشتے داری کے حقوق کو پامال کرنا نہیں ہے ، لیکن میں نے اس بات کو پسند کیا کہ تمہیں تمہارے دین کے بارے میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے ، تو انہوں نے اسلام قبول کر لیا اور اُن کا اسلام عمدہ ہوا ۔ پھر وہ بیمار ہو گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اُن کی عیادت کرنے کے لئے تشریف لائے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پایا کہ ان پر بے ہوشی طاری تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : طلحہ کے بارے میں مجھے یہ توقع ہے کہ یہ آج رات انتقال کر جائے گا ، اگر اسے ہوش آ جائے تو مجھے پیغام بھیج کے بلوانا ، نصف رات کے وقت سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کو ہوش آ گیا ، انہوں نے دریافت کیا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری عیادت نہیں کی ؟ لوگوں نے بتایا : جی ہاں ( یعنی کی ہے ) پھر لوگوں نے انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے بارے میں بتایا ، تو انہوں نے کہا: تم اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کسی کو نہ بھیجو ! ہو سکتا ہے ، جانے والے شخص کو کوئی جانور ڈنک مار دے ، یا اسے کوئی اور نقصان پہنچ جائے ، البتہ جب صبح ہو جائے ، تو تم میری طرف سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سلام پیش کر دینا ، اور آپ کو یہ درخواست کر دینا کہ آپ میرے لئے دعائے مغفرت کر دیں ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز ادا کی اور ان صاحب کے بارے میں دریافت کیا : تو لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان صاحب کے انتقال اور ان کے بیان کے بارے میں بتایا ، راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک اٹھایا اور یہ دعا کی : ” اے اللہ ! تو اس کے ساتھ ایسی حالت میں ملاقات کرنا کہ وہ تیری طرف دیکھ کے مسکرا رہا ہو ، اور تو اُس کی طرف دیکھ کے مسکرا رہا ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے ” مرسل“ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور عبدربہ بن صالح نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔