مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - باب: حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو منقول ہے
وَعَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ : خَرَجَ بُرَيْدَةُ عِشَاءً فَلَقِيَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخَذَ بِيَدِهِ فَأَدْخَلَهُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا صَوْتُ رَجُلٍ يَقْرَأُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تُرَاهُ يُرَائِي ؟ " . فَأُسْكِتَ بُرَيْدَةُ فَإِذَا بِرَجُلٍ يَدْعُو فَقَالَ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنِّي أَشْهَدُ أَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ الْأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَالذَّي نَفْسِي بِيَدِهِ " أَوْ قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَقَدْ سَأَلَ اللَّهَ بِاسْمِهِ الْأَعْظَمِ الَّذِي إِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى وَإِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ " . قَالَ : فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْقَابِلَةِ خَرَجَ بُرَيْدَةُ عِشَاءً وَلَقِيَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخَذَ بِيَدِهِ فَأَدْخَلَهُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا صَوْتُ الرَّجُلِ يَقْرَأُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تُرَاهُ يُرَائِي ؟ " . فَقَالَ بُرَيْدَةُ : أَتَقُولُ هُوَ مُرَاءٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا بَلْ مُؤْمِنٌ مُنِيبٌ لَا ، بَلْ مُؤْمِنٌ مُنِيبٌ " . فَإِذَا الْأَشْعَرِيُّ يَقْرَأُ بِصَوْتٍ لَهُ فِي جَانِبِ الْمَسْجِدِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ الْأَشْعَرِيَّ - أَوْ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ - أُعْطِي مِزْمَارًا مِنْ مَزَامِيرِ دَاوُدَ " . فَقُلْتُ : أَلَا أُخْبِرُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " بَلَى فَأَخْبِرْهُ " . فَأَخْبَرْتُهُ ، فَقَالَ : أَنْتَ لِي صَدِيقٌ ; أَخْبَرْتَنِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِحَدِيثٍ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِي الصَّحِيحِ مِنْهُ : " أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ أُعْطِيَ مِزْمَارًا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ " . وَهُنَا : " مِنْ مَزَامِيرِ دَاوُدَ " . وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ابن بریدہ نے اپنے والد کا یہ بیان نقل کیا ہے : سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ رات کے وقت نکلے ، اُن کی ملاقات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا ہاتھ پکڑا اور انہیں ساتھ لے کر مسجد میں داخل ہوئے ، تو وہاں ایک صاحب کے تلاوت کرنے کی آواز آ رہی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم اس کے بارے میں یہ رائے رکھتے ہو کہ یہ دکھاوا کر رہا ہے ؟ تو سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ خاموش رہے ، پھر اس شخص نے دعا کرنا شروع کی اور یہ کہا: ” اے اللہ ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اس واسطے سے کہ میں یہ گواہی دیتا ہوں ، بے شک تو وہ اللہ ہے کہ تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، تو ایک ہے ، تو بے نیاز ہے ، تو وہ ہے کہ کسی کو اس نے جنم نہیں دیا ہے اور نہ ہی اُس کو جنم دیا گیا اور اس کا کوئی ہمسر نہیں ہے ۔ “ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں محمد کی جان ہے ، اس نے اللہ تعالیٰ سے اُس کے اسم اعظم کے وسیلے سے دعا کی ہے کہ جب اُس اسم اعظم کے وسیلے سے مانگا جائے ، تو اللہ تعالیٰ عطا کرتا ہے ، اور جب دعا کی جائے تو اللہ تعالیٰ قبول کرتا ہے ۔ راوی کہتے ہیں : جب اگلی رات آئی ، تو سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ عشاء کے بعد نکلے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان سے ملاقات ہوئی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا ہاتھ پکڑا اور انہیں مسجد میں لے گئے ، تو وہاں ایک شخص کے تلاوت کرنے کی آواز آ رہی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم اس کے بارے میں یہ رائے رکھتے ہو کہ یہ دکھاوا کر رہا ہے ؟ سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ یہ کہتے ہیں کہ یہ دکھاوا کرنے والا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں ! بلکہ یہ فرمانبردار مومن ہے ، جی نہیں ! بلکہ یہ فرمانبردار مومن ہے ، راوی کہتے ہیں : تو وہ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ تھے ، جو تلاوت کر رہے تھے اور مسجد کے کونے سے اُن کی آواز آ رہی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اشعری کو ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) عبداللہ بن قیس کو سیدنا داؤد علیہ السلام کی سی خوش الحانی عطا کی گئی ہے ۔ “ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میں انہیں بتاؤں نہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! تم اسے بتاؤ ، میں نے انہیں بتایا ، تو سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم میرے دوست ہو ، تم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ایک بات مجھے بتائی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ” صحیح “ میں اس میں سے یہ الفاظ منقول ہیں : ” بے شک عبداللہ بن قیس کو آل داؤد کی خوش الحانی میں سے حصہ عطا کیا گیا ہے ۔ “ اور یہاں یہ الفاظ ہیں : ” سیدنا داؤد علیہ السلام کی خوش الحانی میں سے حصہ عطا کیا گیا ہے ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔