مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - باب: حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو منقول ہے
حدیث نمبر: 15937
وَعَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ : كَانَ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ مِمَّنْ هَاجَرَ إِلَى أَرْضِ الْحَبَشَةِ ، فَأَقَامَ بِهَا حَتَّى بَعَثَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى النَّجَاشِيِّ عَمْرَو بْنَ أُمَيَّةَ ، فَجَعَلَهُمْ فِي سَفِينَتَيْنِ ، فَقَدِمَ بِهِمْ خَيْبَرَ بَعْدَ الْحُدَيْبِيَةِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُنْقَطِعَ الْإِسْنَادِ ، وَرِجَالُهُ إِلَى ابْنِ إِسْحَاقَ ثِقَاتٌ . ¤محمد محی الدین
ابن اسحاق بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ ، ان افراد میں سے ایک ہیں ، جنہوں نے حبشہ کی سرزمین کی طرف ہجرت کی تھی ، یہ وہاں مقیم رہے ، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ کو نجاشی کی طرف بھیجا ، تو نجاشی نے ان لوگوں کو دو کشتیوں میں بھیجا ، تو یہ حدیبیہ کے بعد غزوہ خیبر کے قریب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور یہ سند کے اعتبار سے منقطع ہے ابن اسحاق تک اس کے رجال ثقہ ہیں ۔