مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - باب: حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو منقول ہے
وَعَنْ مِحْجَنِ بْنِ الْأَدْرَعِ قَالَ : أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِيَدِي حَتَّى صَعِدَ أُحُدًا ، وَأَشْرَفَ عَلَى الْمَدِينَةِ فَقَالَ : " وَيْحَ أُمِّهَا قَرْيَةٌ ! يَدَعُهَا أَهْلُهَا أَعْمَرَ مَا تَكُونُ يَأْتِيهَا الدَّجَّالُ فَيَجِدُ عَلَى كُلِّ نَقْبٍ مِنْ أَنِقَابِهَا مَلَكًا مُصْلِتًا . ثُمَّ انْحَدَرَ حَتَّى أَتَى الْمَسْجِدَ فَإِذَا هُوَ بَرَجُلٍ قَائِمٍ يُصَلِّي وَيَقْرَأُ ، فَقَالَ : " تُرَاهُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ ؟ ، إِنَّهُ لَأَوَّاهٌ حَلِيمٌ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا أُبَشِّرُهُ ؟ قَالَ : " احْذَرْ لَا تُسْمِعْهُ فَتُهْلِكَهُ " . ثُمَّ انْحَدَرَ ، فَلَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَى الْمَسْجِدِ ، فَوَجَدْنَا بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيَّ عَلَى بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ ، وَكَانَ فِي الْمَسْجِدِ رَجُلٌ يُطِيلُ الصَّلَاةَ ، وَكَانَ بُرَيْدَةُ صَاحِبَ مُزَاحَاتٍ ، فَقَالَ : يَا مِحْجَنُ ، أَلَا تُصَلِّي كَمَا يُصَلِّي سَكِيَّةَ ؟ ! فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ شَيْئًا ، وَرَجَعَ ، فَلَمَّا أَتَى بَيْتَهُ قَالَ : " خَيْرُ دِينِنَا أَيْسَرُهُ ، خَيْرُ دِينِكُمْ أَيْسَرُهُ ، خَيْرُ دِينِكُمْ أَيْسَرُهُ ، خَيْرُ دِينِكُمْ أَيْسَرُهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ رَجَاءِ بْنِ أَبِي رَجَاءٍ وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤سیدنا محجن بن ادرع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا یہاں تک کہ آپ اُحد پہاڑ پر چڑھ گئے پھر آپ نے مدینہ منورہ کی طرف دیکھا اور فرمایا : اس کی ماں کی بربادی ہے ، یہ ایک بستی ہے ، جس کے رہنے والے اسے چھوڑ جائیں گے ، جبکہ یہ آباد ہو چکی ہو گی ، دجال اس کے پاس آئے گا ، تو وہ اس کے ہر راستے پر فرشتے کو تلوار سونتے ہوئے پائے گا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے اُترے آپ مسجد میں آ گئے ، وہاں ایک شخص کھڑا ہوا نماز ادا کر رہا تھا اور تلاوت کر رہا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : عبداللہ بن قیس کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے ؟ یہ ایک نیک بردبار شخص ہے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میں انہیں خوشخبری نہ دوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اس سے بچو کہ تم اسے یہ بات سنا کر اسے ہلاکت کا شکار کر دو ۔ راوی کہتے ہیں : پھر وہ چلے گئے ، یہاں تک کہ ہم لوگ مسجد میں آ گئے ، ہم نے سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ کو مسجد کے دروازے پر پایا ، مسجد میں ایک شخص تھا ، جو طویل نماز ادا کر رہا تھا ، سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ کے مزاج میں مزاح کا عنصر تھا ، انہوں نے فرمایا : اے محجن ! کیا تم اس طرح نماز نہیں ادا کرو گے جس طرح سکیہ نماز ادا کر رہا ہے ؟ تو انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا اور واپس چلے گئے ، جب وہ اپنے گھر آئے تو انہوں نے کہا: ہمارے دین میں سب سے بہتر وہ ہے جو زیادہ آسان ہو ، تمہارے دین میں سب سے زیادہ بہتر وہ ہے جو زیادہ آسان ہو ، تمہارے دین میں سب سے زیادہ بہتر وہ ہے جو زیادہ آسان ہو ، تمہارے دین میں سب سے زیادہ بہتر وہ ہے جو زیادہ آسان ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف رجاء بن ابورجاء کا معاملہ مختلف ہے اور ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔