حدیث نمبر: 15936
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ : قَدِمَ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِخَيْبَرَ ، فَدَعَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِأَكْبَرِ أَهْلِ السَّفِينَةِ وَأَصْغَرِهِمْ ، وَكَانَ أَبُو عَامِرٍ يَقُولُ : أَنَا أَكْبَرُ أَهْلِ السَّفِينَةِ وَابْنِي أَصْغَرُهُمْ . ¤ قَالَ سَعِيدٌ : وَكَانَ فِيهَا أَبُو عَامِرٍ ، وَأَبُو مَالِكٍ ، وَأَبُو مُوسَى ، وَكَعْبُ بْنُ عَاصِمٍ ، خَرَجُوا بِالْأَبْوَاءِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُنْقَطِعَ الْإِسْنَادِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین

سعید بن عبدالعزیز بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ خیبر سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لائے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کشتی میں آنے والے ہر بڑے چھوٹے شخص کو دعا دی ، سیدنا ابوعامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ” میں کشتی والوں میں سب سے بڑا تھا اور میرا بیٹا سب سے چھوٹا تھا ۔ سعید بیان کرتے ہیں : اس کشتی میں سیدنا ابوعامر رضی اللہ عنہ تھے ، سیدنا ابومالک رضی اللہ عنہ تھے ، سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ تھے ، سیدنا کعب بن عاصم رضی اللہ عنہ تھے ، یہ لوگ ” ابواء “ کے مقام پر آئے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، یہ سند کے اعتبار سے منقطع ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15936
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن