حدیث نمبر: 15915
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُمِّ حَبِيبَةَ مِنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَقَّ الْبَابَ دَاقٌّ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " انْظُرُوا مَنْ هَذَا " . قَالُوا : مُعَاوِيَةُ قَالَ : " ائْذَنُوا " . وَدَخَلَ وَعَلَى أُذُنِهِ قَلَمٌ يَخُطُّ بِهِ ، فَقَالَ : " مَا هَذَا الْقَلَمُ عَلَى أُذُنِكَ يَا مُعَاوِيَةُ ؟ " . قَالَ : قَلَمٌ أَعْدَدْتُهُ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ ، فَقَالَ : " جَزَاكَ اللَّهُ عَنْ نَبِيِّكَ خَيْرًا ، وَاللَّهِ مَا اسْتَكْتَبْتُكَ إِلَّا بِوَحْيٍ مِنَ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - وَمَا أَفْعَلُ مِنْ صَغِيرَةٍ وَلَا كَبِيرَةٍ إِلَّا بِوَحْيٍ مِنَ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - كَيْفَ بِكَ لَوْ قَمَصَكَ اللَّهُ قَمِيصًا - يَعْنِي الْخِلَافَةَ - ؟ " . فَقَامَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ فَجَلَسَتْ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَإِنَّ اللَّهَ مُقَمِّصٌ أَخِي قَمِيصًا ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، وَلَكِنَّ فِيهِ هَنَّاتٍ ، وَهَنَّاتٍ ، وَهَنَّاتٍ " . فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَادْعُ اللَّهَ لَهُ . فَقَالَ : " اللَّهُمَّ اهْدِهِ بِالْهُدَى ، وَجَنِّبْهُ الرَّدَى ، وَاغْفِرْ لَهُ فِي الْآخِرَةِ وَالْأُولَى " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ السَّرِيُّ بْنُ عَاصِمٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کا مخصوص دن آیا ، تو ایک دن کسی نے دروازے پر دستک دی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ دیکھو کہ کون ہے ؟ لوگوں نے بتایا : معاویہ ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے اندر آنے کی اجازت دو ! وہ اندر آئے ، ان کے کان پر قلم لگا ہوا تھا جس کے ذریعے وہ لکھتے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے معاویہ ! تمہارے کان پر قلم کیوں رکھا ہوا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : یہ قلم ہے ، جسے میں نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تیار رکھا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ تمہیں تمہارے نبی کی طرف سے جزائے خیر دے ، اللہ کی قسم ! میں نے تمہیں اللہ کی وحی کی کتابت کے لئے اس لئے مقرر کیا ہے ، اور میں جو بھی چھوٹا ، یا بڑا کام کرتا ہوں ، تو وہ اللہ کی وحی کے تابع ہوتا ہے ، اس وقت تمہارا کیا عالم ہو گا کہ جب اللہ تعالیٰ تمہیں ایک قمیص پہنائے گا ؟ راوی کہتے ہیں : یعنی خلافت نصیب کرے گا ، تو سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا اٹھیں اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ کر بیٹھ گئیں ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا اللہ تعالیٰ میرے بھائی کو قمیص پہنائے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! لیکن اس میں کچھ خامیاں ہوں گی ، تو سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ اللہ تعالیٰ سے اس کے لئے دعا کیجئے ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے اللہ ! تو اسے ہدایت نصیب کرنا ، اور اسے برائیوں سے الگ رکھنا اور آخرت میں اور دنیا میں اس کی مغفرت کرنا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سری بن عاصم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15915
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1859)»