مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - باب: حضرت معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو منقول ہے
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اسْتَأْذَنَ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ فِي أَمْرٍ ، فَقَالَ : " أَشِيرُوا عَلَيَّ " . فَقَالَا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . فَقَالَ : " أَشِيرُوا عَلَيَّ " . فَقَالَا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . فَقَالَ : " ادْعُوَا لِي مُعَاوِيَةَ " . فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ : أَمَا كَانَ فِي رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَرَجُلَيْنِ مِنْ قُرَيْشٍ مَا يَنْفُذُونَ أَمْرَهُمْ حَتَّى بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى غُلَامٍ مِنْ غِلْمَانِ قُرَيْشٍ ؟ ! ، فَلَمَّا وَقَفَ بَيْنَ يَدَيْهِ قَالَ : " أَحْضِرُوهُ أَمْرَكُمْ - أَوْ أَشْهِدُوهُ أَمْرَكُمْ - ; فَإِنَّهُ قَوِيٌّ أَمِينٌ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارِ اعْتِرَاضِ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ ، وَشَيْخُ الْبَزَّارِ ثِقَةٌ ، وَشَيْخُ الطَّبَرَانِيِّ لَمْ يُوَثِّقْهُ إِلَّا الذَّهَبِيُّ فِي الْمِيزَانِ ، وَلَيْسَ فِيهِ جَرْحٌ مُفَسَّرٌ ، وَمَعَ ذَلِكَ فَهُوَ حَدِيثٌ مُنْكَرٌ . وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤سیدنا عبدالله بن بسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کسی معاملے کے بارے میں مشورہ مانگا ، آپ نے فرمایا : مجھے مشورہ دو ! تو ان دونوں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ مجھے مشورہ دو ! تو ان دونوں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : معاویہ کو میرے پاس بلا کے لاؤ ، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور قریش سے تعلق رکھنے والے دو افراد میں وہ چیز نہیں ہے کہ جس کے ذریعے وہ اپنے فیصلے کو نافذ کر سکیں ؟ یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے ایک لڑکے کو پیغام بھیج دیا ہے ، جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے اپنے معاملے میں شامل رکھو ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) کیونکہ یہ قوی ہے اور امین ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام بزار نے صرف اختصار کے ساتھ یہ بات نقل کی ہے : کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اعتراض کیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں اور اس کے بعض راویوں میں اختلاف پایا جاتا ہے ، امام بزار کے استاد ثقہ ہیں امام طبرانی کے استاد کی ، امام ذہبی نے ” میزان الاعتدال “ میں توثیق کی ہے ، اس کے علاوہ کسی نے اس کی توثیق نہیں کی ، لیکن اس کے بارے میں کوئی مفسر جرح نہیں ہے اور اس کے علاوہ یہ حدیث منکر ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔