مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - باب: حضرت معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو منقول ہے
وَعَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ : خَرَجَ مُعَاوِيَةُ مِنَ الشَّامِ يُرِيدُ مَكَّةَ ، فَنَزَلَ مَنْزِلًا بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ يُقَالُ لَهُ : الْأَبْوَاءُ ، فَاطَّلَعَ فِي بِئْرِ عَادِيَةٍ فَأَصَابَتْهُ لِقْوَةٌ ، فَأَجَدَّ السَّيْرَ حَتَّى دَخَلَ مَكَّةَ ، وَأَتَاهُ الْحَاجِبُ فَقَالَ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، النَّاسُ بِالْبَابِ مَا أَفْقِدُ وَجْهًا . قَالَ : فَابْسُطْ لِي إِذًا . قَالَ : ثُمَّ دَعَا بِعِمَامَةٍ فَلَفَّ بِهَا رَأَسَهُ وَشِقَّ وَجْهَهُ ، ثُمَّ خَرَجَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : أَمَّا بَعْدُ ، فَإِنْ أُعَافَى فَقَدْ عُوفِيَ الصَّالِحُونَ قَبْلِي ، إِنِّي لِأَرْجُوَ أَنْ أَكُونَ مِنْهُمْ ، وَإِنْ كَانَ مَرِضَ مِنِّي عُضْوٌ فَمَا أُحْصِيَ صَحِيحِي ، وَإِنْ كَانَ وَجَدَ عَلَيَّ بَعْضُ خَاصَّتِكُمْ فَقَدْ كُنْتُ حَدَبًا عَلَى عَامَّتِكُمْ ، وَمَا لِي أَنْ أَتَمَنَّى عَلَى اللَّهِ أَكْثَرَ مِمَّا أَعْطَانِي ، فَرَحِمَ اللَّهُ رَجُلًا دَعَا لِي بِالْعَافِيَةِ . وَارْتَجَّتِ الْأَصْوَاتُ بِالدُّعَاءِ فَاسْتَبْكَى ، فَقَالَ لَهُ مَرْوَانُ : مَا يُبْكِيكَ يَا أَمِيَر الْمُؤْمِنِينَ ؟ ! قَالَ : رَاجَعْتُ مَا كُنْتَ عَنْهُ عَزُوفًا ، فَقَالَ : كَبُرَتْ سِنِّي ، وَرَقَّ عَظْمِي ، وَكَثُرَتِ الدُّمُوعُ فِي عَيْنِي ، وَرُمِيتُ فِي أَحْسَنِي وَمَا يَبْدُو مِنِّي ، وَلَوْلَا هَوًى مِنِّي فِي يَزِيدَ أَبْصَرَتُ قَصْدِي . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ الْهَمْدَانِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤امام شعبی بیان کرتے ہیں : سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ شام سے نکلے ، ان کا مکہ جانے کا ارادہ تھا ، انہوں نے مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک جگہ پر پڑاؤ کیا ، جس کا نام ” ابواء “ تھا ، وہاں انہوں نے ایک کنویں میں جھانک کر دیکھا ، تو انہیں لقوہ ہو گیا ، انہوں نے سفر تیز کیا اور مکہ پہنچ گئے ، دربان ان کے پاس آیا اور بولا: اے امیر المؤمنین دروازے پر لوگ موجود ہیں اور تقریباً سبھی لوگ ہیں تو انہوں نے فرمایا : تم میرے لئے کوئی چیز بچھاؤ ، پھر انہوں نے عمامہ منگوایا اور اسے اپنے سر پر لپیٹا اور چہرے کے ایک حصے پر لپیٹ لیا ، پھر وہ نکلے ، انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی ، پھر انہوں نے فرمایا : امابعد ! اگر مجھے عافیت ملتی ہے تو مجھ سے پہلے نیک لوگوں کو بھی عافیت دی گئی اور مجھے یہ امید ہے کہ میں بھی نیک لوگوں میں ایک ہوؤں گا ، اور نیک لوگوں کو آزمائش میں مبتلاء کیا جاتا ہے ، لیکن میں ایسے لوگوں میں سے نہیں ہوں گا ، اگر میرا کوئی عضو بیمار ہو جاتا ہے تو میں اپنے صحیح حصے کو شمار نہیں کروں گا ، اور اگر تم میں سے کچھ لوگ میرے خلاف چیز محسوس کرتے ہیں ، تو میں تمہارے عمومی لوگوں کی دیکھ بھال کرنے والا ہوں اور مجھے کیا حق ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے جو کچھ عطا کیا ہے ، میں اللہ تعالیٰ سے اس سے زیادہ کی تمنا کروں ؟ تو اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جو میرے لئے عافیت کی دعا کرتا ہے ، تو لوگوں کی دعاؤں سے آواز کی گونج پیدا ہوئی ، پھر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ رونے لگے ، تو مروان نے ان سے دریافت کیا : اے امیر المؤمنین ! آپ کیوں رو رہے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : میں نے مراجعت کی ہے اور میں اس سے دور نہیں ہوں ، انہوں نے فرمایا : میری عمر زیادہ ہو گئی ہے ، میری ہڈیاں کمزور ہو گئی ہیں ، میری آنکھوں سے آنسو بکثرت جاری ہوتے ہیں اور میری اچھی چیزوں اور میری طرف سے جو چیز ظاہر ہوتی ہے اس پر الزام لگایا گیا ہے ، اگر یزید کے بارے میں میری خواہش نہ ہوتی تو میں اپنے مقصود کے بارے میں بصیرت رکھتا ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حسن بن ابویزید ہمدانی ہے اور وہ متروک ہے ۔