حدیث نمبر: 15912
وَعَنْ بَكَّارِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ قَالَ : قَالَ مُعَاوِيَةُ : مَا وَلَدَتْ قُرَشِيَّةٌ لِقُرَشِيٍّ خَيْرًا لَهَا فِي دُنْيَاهَا مِنِّي . فَقَالَ مَعْدُ بْنُ يَزِيدَ : مَا وَلَدَتْ قُرَشِيَّةٌ لِقُرَشِيٍّ خَيْرًا لَهَا فِي دِينِهَا مِنْ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . وَمَا وَلَدَتْ قُرَشِيَّةٌ لِقُرَشِيٍّ شَرًّا لَهَا فِي دُنْيَاهَا مِنْكَ . قَالَ : وَلِمَ ؟ قَالَ : لِأَنَّكَ عَوَّدْتَهَا عَادَةً كَأَنِّي بِهِمْ قَدْ طَلَبُوهَا مِنْ غَيْرِكَ ، فَكَأَنِّي بِهِمْ صَرْعَى فِي الطَّرِيقِ . قَالَ : وَيْحَكَ ! وَاللَّهِ إِنِّي لَأَكْتُمُهَا نَفْسَيْ كَذَا وَكَذَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ الْجُمَحِيُّ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

بکار بن محمد بن رافع بیان کرتے ہیں : سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کسی قریشی عورت نے کسی قریشی مرد کے ایسے بچے کو جنم نہیں دیا ، جو دنیاوی اعتبار سے اُس عورت کے لئے مجھ سے زیادہ بہتر ہو ۔ معد بن یزید نے کہا: کسی قریشی عورت نے کسی قریشی مرد کے ایسے بچے کو جنم نہیں دیا جو دینی اعتبار سے اس خاتون کے لئے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ بہتر ہو ، اور کسی قریشی عورت نے کسی قریشی مرد کے بچے کو جنم نہیں دیا ، جو دنیاوی اعتبار سے اس عورت کے لیے آپ سے زیادہ برا ہو ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : وہ کیوں ؟ انہوں نے کہا: اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ نے اس ( دنیا ) کو عادت بنا لیا ہے ، اور مجھے لگتا ہے کہ لوگ دنیا آپ کی بجائے کسی اور سے لینا چاہیں گے ، اور اس وجہ سے وہ راہوں میں مارے گئے ہوں گے ، تو انہوں نے کہا: تمہارا ستیاناس ہو ، اتنے اتنے عرصے سے میں نے اسے اپنے لئے چھپا کے رکھا ہوا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے اس میں محمد بن سلام جمحی نامی راوی ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15912
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (440/19)»