حدیث نمبر: 15898
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَسْوَدِ بْنِ خَلَفٍ قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا فِي الْحِجْرِ مَعَ النَّاسِ مِنْ قُرَيْشٍ إِذْ قِيلَ : قَدِمَ اللَّيْلَةَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ قَالَ : فَمَا أَكْثَرْنَا أَنْ دَخَلَ عَلَيْنَا فَمَدَدْنَا إِلَيْهِ أَبْصَارَنَا ، فَطَافَ ، ثُمَّ صَلَّى فِي الْحِجْرِ رَكْعَتَيْنِ وَقَالَ : أَقَرَصْتُمُونِي ؟ قُلْنَا : مَا ذَكَرْنَاكَ إِلَّا بِخَيْرٍ ، ذَكَرْنَاكَ وَهِشَامَ بْنَ الْعَاصِ فَقُلْنَا : أَيُّهُمَا أَفْضَلُ ؟ قَالَ بَعْضُهُمْ : هَذَا ، وَقَالَ بَعْضُنَا : هِشَامٌ . قَالَ : أَنَا أُخْبِرُكُمْ عَنْ ذَلِكَ ، أَسْلَمْنَا وَأَحْبَبْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنَاصَحْنَاهُ ، ثُمَّ ذَكَرَ يَوْمَ الْيَرْمُوكِ ، فَقَالَ : أَخَذْتُ بِعَمُودِ الْفُسْطَاطِ ، ثُمَّ اغْتَسَلْتُ وَتَحَنَّطْتُ ، ثُمَّ تَكَفَّنْتُ ، فَعَرَضْنَا أَنْفُسَنَا عَلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - فَقَبِلَهُ فَهُوَ خَيْرٌ مِنِّي . - يَقُولُهَا ثَلَاثًا - . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو عَمْرٍو مَوْلَى بَنِي أُمَيَّةَ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

محمد بن اسود بن خلف بیان کرتے ہیں : ہم لوگ قریش سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگوں کے ہمراہ حطیم میں بیٹھے ہوئے تھے ، اسی دوران کہا: گیا کہ آج رات سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ تشریف لے آئیں گے ، راوی کہتے ہیں : ہم ان کا زیادہ تر ذکر کرتے رہے تو اسی دوران وہ ہمارے پاس تشریف لے آئے ، تو ہم ان کی طرف دیکھنے لگے ، انہوں نے طواف کیا پھر حطیم میں دو رکعت ادا کیں پھر فرمایا : تم لوگ میرا ذکر کر رہے تھے ؟ ہم نے کہا: ہم آپ کا ذکر صرف بھلائی کے ہمراہ کر رہے تھے ، ہم نے آپ کا اور ( آپ کے بھائی ) سیدنا ہشام بن العاص رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا ، پھر ہم نے یہ بحث کی کہ آپ دونوں میں کون زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ تو کسی کا یہ کہنا تھا کہ یہ زیادہ فضیلت رکھتے ہیں ، کسی کا کہنا تھا کہ ہشام زیادہ فضیلت رکھتے ہیں ، تو سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں تمہیں اس بارے میں بتاتا ہوں ، میں نے ( اور میرے بھائی نے ) اسلام قبول کیا ، ہم نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھی ، ان کی خیرخواہی کی ، پھر سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے جنگ یرموک کا ذکر کرتے ہوئے یہ کہا: کہ میں نے خیمے کی لکڑی پکڑی ، پھر میں نے غسل کیا ، پھر میں نے خوشبو لگائی ، پھر میں نے کفن پہن لیا ، ہم نے آپ کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کیا ، تو اللہ تعالیٰ نے اسے قبول کر لیا ( یعنی اسے جام شہادت عطا کیا ) تو وہ اس حوالے سے مجھ سے بہتر ہے ، یہ بات سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوعمرو ہے ، جو بنوامیہ کا غلام ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15898
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف