حدیث نمبر: 15897
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ : بَعَثَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " خُذْ عَلَيْكَ ثِيَابَكَ وَسِلَاحَكَ ثُمَّ ائْتِنِي " . قَالَ : فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ فَصَعَّدَ فِيَّ الْبَصَرَ ، ثُمَّ طَأْطَأَ فَقَالَ : " إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَبْعَثَكَ عَلَى جَيْشٍ فَيُسَلِّمُكَ اللَّهُ وَيُغْنِمُكَ ، وَأَرْغَبُ لَكَ مِنَ الْمَالِ رَغْبَةً صَالِحَةً " . فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا أَسْلَمْتُ مِنْ أَجْلِ الْمَالِ ، وَلَكِنِّي أَسْلَمْتُ رَغْبَةً فِي الْإِسْلَامِ ، وَأَنْ أَكُونَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . فَقَالَ : " يَا عَمْرُو ، نَعِمَّا بِالْمَالِ الصَّالِحِ لِلْمَرْءِ الصَّالِحِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَقَالَ : هَكَذَا فِي النُّسْخَةِ : " نَعِمَّا " . بِنَصْبِ النُّونِ وَكَسْرِ الْعَيْنِ ، وَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ : بِكَسْرِ النُّونِ وَالْعَيْنِ . ¤ وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَقَالَ فِيهِ : وَلَكِنْ أَسْلَمْتُ رَغْبَةً فِي الْإِسْلَامِ ، وَأَكُونُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " نَعَمْ وَنَعِمَّا بِالْمَالِ الصَّالِحِ لِلْمَرْءِ الصَّالِحِ " . وَرِجَالُ أَحْمَدَ وَأَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف پیغام بھیجا اور فرمایا : تم اپنا لباس اور ہتھیار پہن کر پھر میرے پاس آؤ ! راوی کہتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت وضو کر رہے تھے ، آپ نے نگاہ اٹھا کر میری طرف دیکھا اور پھر آپ نے سر جھکا لیا ، پھر آپ نے فرمایا : میں تمہیں ایک لشکر کا امیر بنا کر بھیجنا چاہتا ہوں ، اللہ تعالیٰ تمہیں سلامت رکھے اور تمہیں غنیمت عطا کرے ، میں تمہارے لئے مال کے حوالے سے اچھی رغبت رکھتا ہوں ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے مال کی خاطر اسلام قبول نہیں کیا ہے ، میں نے اسلام میں رغبت رکھتے ہوئے اسلام قبول کیا ہے ، تاکہ میں اللہ کے رسول کے ساتھ رہوں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے عمرو ! اچھا مال ، اچھا ہوتا ہے ، جو اچھے آدمی کے پاس ہو ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے وہ فرماتے ہیں : نسخے میں اسی طرح لفظ ” نعما “ جس میں ” ن “ پر زبر ہے اور ” ع “ پر زیر ہے ، ابوعبیدہ کہتے ہیں : ” ن “ پر زیر ہے اور ” ع “ پر بھی زیر ہے ، یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، انہوں نے اس میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” میں نے اسلام میں رغبت رکھتے ہوئے اور اللہ کے رسول کے ساتھ ہونے میں رغبت رکھتے ہوئے ایسا کیا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ٹھیک ہے ، وہ اچھا مال ، اچھا ہوتا ہے ، جو اچھے آدمی کے پاس ہو ۔ “ امام أحمد اور امام ابویعلیٰ کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15897
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح